کیا پس دیکھا آپ نے اس کو جس نے بنا لیا اپنا معبود اپنی خواہش کو اور گمراہ کر دیا اس کو اللہ نے علم پر اور مہر لگا دی اس کے کان اور اس کے دل پر اور کر دیا اس کی آنکھ پر پردہ؟ پس کون ہے جو ہدایت دے اسے بعد اللہ کے؟ کیا پس نہیں تم نصیحت پکڑتے (23) اور کہا انھوں نے: نہیں ہے یہ (زندگی) سوائے ہماری زندگانی دنیا کے، ہم مرتے اور زندہ ہوتے ہیں اور نہیں ہلاک کرتا ہمیں مگر زمانہ ہی، اور نہیں ہے ان کے لیے اس کا کوئی علم، نہیں ہیں وہ مگر گمان کرتے (24) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں اس حال میں کہ وہ واضح ہیں تو نہیں ہوتی دلیل ان کی مگر یہی کہ انھوں نے کہا، لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (25) کہہ دیجیے! اللہ ہی زندہ کرتا ہے تم کو ، پھرمارتا ہے تم کو ، پھر وہی جمع کرے گا تمھیں روز قیامت میں، کہ نہیں ہے کوئی شک اس میں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (26)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَفَرَءَيۡتَ ﴾ کیا آپ نے اس گمراہ شخص کو دیکھا ﴿مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ﴾ ’’جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا‘‘ جس راستے پر چاہا، چلتا رہا، خواہ اس راستے پر چلنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے یا اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ ﴿وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے اسے گمراہی میں پھینک دیا کہ وہ ہدایت کے لائق نہیں اور نہ ہدایت کے ذریعے سے وہ پاک ہی ہو سکتا ہے۔ ﴿وَّخَتَمَ عَلٰى سَمۡعِهٖ ﴾ ’’اور اس کے کانوں پر مہر لگادی۔‘‘ اس لیے وہ کوئی ایسی چیز نہیں سن سکتا جو اس کے لیے فائدہ مند ہو ﴿وَقَلۡبِهٖ﴾ ’’اور اس کے دل پر۔‘‘ پس وہ بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتا ﴿وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً ﴾ ’’اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔‘‘ جو اسے حق دیکھنے سے روکتا ہے ﴿فَمَنۡ يَّهۡدِيۡهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس کون ہے جو اس کو اللہ کے بعد ہدایت دے؟‘‘ اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کر دیے اور گمراہی کے دروازے کھول دیے، کوئی شخص اس کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ظلم نہیں کیا بلکہ اس نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا، اس نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مانع تھے۔ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اس چیز سے) نصیحت نہیں پکڑتے۔‘‘ جو تمھیں فائدہ دے اور تم اسے اختیار کرتے اور جو چیز تمھیں نقصان دے تم اس سے اجتناب کرتے۔
[24]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی منکرین آخرت کہتے ہیں: ﴿مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهۡرُ ﴾ یہ تو سب صرف عادات ہیں اور گردش لیل و نہار کے ساتھ جاری ہیں کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ جنم لیتے ہیں، جو کوئی مر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر نہیں جاتا اور نہ اس کو اس کے عمل کی جزا و سزا ہی دی جائے گی۔ ان کا یہ قول بغیر کسی علم کے صادر ہوا ہے۔ ﴿اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ ﴾ پس انھوں نے معاد کا انکار کیا اور کسی دلیل و برہان کے بغیر سچے رسولوں کی تکذیب کی۔ یہ محض وہم و گمان اور ایسے استبعادات ہیں جو حقیقت سے خالی ہیں۔
[25] بنابریں فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو اس کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ کہہ دیتے ہیں: اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباؤ اجداد کو اٹھالاؤ۔‘‘یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا اور اس زعم باطل میں مبتلا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی صداقت اس بات پر موقوف ہے کہ ان کے آباء و اجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لایا جائے، انبیاء و رسل ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں وہ ہرگز نہیں مانیں گے جب تک کہ رسول ان کا وہ مطالبہ پورا نہیں کرتے جو انھوں نے پیش کیا ہے۔ وہ اپنے قول میں سخت جھوٹے ہیں ان کا مقصد بیان حق نہیں بلکہ صرف رسولوں کی دعوت کو ٹھکرانا ہے۔
[26] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلِ اللّٰهُ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يَجۡمَعُكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ ہی تم کو زندہ کرتا، پھر تم کو مارتا ہے ، پھر تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اگر یوم آخرت کا علم ان کے دل کی گہرائیوں تک پہنچا ہوتا تو وہ ضرور اس کے لیے تیاری کرتے اور نیک عمل کرتے۔