Tafsir As-Saadi
45:27 - 45:37

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن خسارے میں رہیں گے باطل پرست (27) اور دیکھیں گے آپ ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل (گری ہوئی) ہر اُمت بلائی جائے گی اپنے نامۂ اعمال کی طرف، آج تم بدلہ دیے جاؤ گے (اس کا) جو تھے تم عمل کرتے (28) یہ ہماری کتاب ہے، یہ بولتی ہے تمھاری بابت سچ سچ، بلاشبہ ہم لکھواتے تھے جو تھے تم عمل کرتے(29) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، پس داخل کر ے گا ان کو رب ان کا اپنی رحمت میں، یہی ہے کامیابی واضح (30) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا پس نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تم نے تکبر کیا اور تھے تم لوگ مجرم (31) اور جب کہا گیا (تم سے) کہ بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، اور قیامت نہیں ہے کوئی شک اس (کے آنے) میں، تو تم نے کہا:نہیں جانتے ہم کیا ہے قیامت؟ نہیں خیال کرتے ہم مگر ایک گمان ہی اور نہیں ہم (اس کا) یقین کرنے والے (32)اور ظاہر ہو جائیں گی ان کے سامنے برائیاں ان چیزوں کی جو انھوں نے کیں اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (33) اور کہا جائےگا: آج ہم بھول جائیں گے تمھیں جیسے بھول گئے تھے تم ملاقات کو اپنے اس دن کی اور ٹھکانا تمھارا آگ ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے کوئی مدد گار (34) یہ بسبب اس کے کہ بے شک تم نے بنایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق، اور دھوکے میں ڈال دیا تم کو زندگانی دنیا نے، پس آج نہ نکالے جائیں گے وہ اس (آگ) سے اور نہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (35) پس اللہ ہی کے لیے ہیں سب تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا، رب ہے سارے جہانوں کا (36) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے (37)

[27] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’ جس روز قیامت برپا ہوگی۔‘‘ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد:﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔
[29] اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔‘‘ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔‘‘ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔
[30] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔
[31]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔
[32] نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔‘‘ اس کا انکار کرتے ہوئے :﴿مَّا نَدۡرِيۡ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ﴾ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔‘‘ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا ۔
[33] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔
[34]﴿وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰىكُمۡ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ﴾ ’’جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔‘‘ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاۡوٰىكُمُ النَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔
[35]﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا﴾ ’’تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ۔‘‘حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔
[36]﴿فَلِلّٰهِ الۡحَمۡدُ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔‘‘ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔
[37]﴿وَلَهُ الۡكِبۡرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔‘‘ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔