Tafsir As-Saadi
46:1 - 46:3

حٰمٓ(1) نازل کرنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے، جو بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(2) نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، مگر ساتھ حق اور وقت مقرر کے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان چیزوں سے (جن سے) وہ ڈرائے گئے، منہ موڑنے والے ہیں(3)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2] یہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنی کتاب عزیز کی ثنا اور تعظیم ہے اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ وہ اس کتاب کی روشنی سے راہ نمائی حاصل کریں، اس کی آیات میں تدبر کریں اور اس کے خزانوں کا استخراج کریں۔
[3] جب اللہ تعالی نے اس کتاب کو نازل کرنے کے بارے میں فرمایا، جو امرونہی کو متضمن ہے، تو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا بھی ذکر فرمایا پس اس نے خلق و امر کو جمع کر دیا۔ ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ﴾(الاعراف:7؍54) جیسا کہ فرمایا: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے۔‘‘اور جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ يُنَزِّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوۡنِ۰۰ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ﴾(النحل:16؍2) ’’اللہ ہی فرشتوں کو اپنی وحی دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو (اس بات سے) آگاہ کر دو کہ بلاشبہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، لہٰذا تم مجھ ہی سے ڈرو۔ اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔‘‘ تو اللہ تعالی ہی نے مکلفین کو پیدا کیا، ان کے مساکن بنائے، ان کے لیے زمین اور آسمان کی ہر چیز کو مسخر کر دیا‘‘پھر ان کی طرف رسول بھیجے، ان پر اپنی کتابیں نازل کیں، انھیں نیکی کا حکم دیا اور بدی سے روکا، انھیں خبردار کیا کہ یہ دنیا عمل کا گھر اور اہل عمل کے لیے گزرگاہ ہے، یہ دنیا اقامت کی جگہ نہیں کہ اس کے رہنے والے یہاں سے کوچ نہیں کریں گے، وہ عنقریب یہاں سے جائے قرار اور ہمیشہ رہنے والے دائمی ٹھکانے اور اقامت گاہ میں منتقل ہوں گے۔وہ اس گھر میں، اپنے اعمال کی جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں، کامل اور وافر جزا پائیں گے۔ اللہ تبارک و تعالی نے اس گھر کے اثبات کے لیے دلائل قائم کیے اور نمونے کے طور پر اسی دنیا میں بندوں کو ثواب و عقاب کا مزا چکھایا تاکہ امر محبوب کی طلب اور امر مرہوب سے دور بھاگنے کا داعیہ زیادہ شدت سے پیدا ہو۔ بنابریں فرمایا:﴿ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ﴾ ’’ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، برحق پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو عبث اور بے کار پیدا نہیں کیا بلکہ اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ بندے ان کے خالق کی عظمت کو پہچانیں اور اس کے کمال پر ان سے استدلال کریں اور تاکہ بندے جان لیں کہ وہ ہستی جس نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ بندوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے، نیز آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور ان کی بقا کا وقت ﴿ اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾ ’’ایک مدت مقررہ تک ہے۔‘‘ معین ہے۔جب اللہ تعالی نے اس حقیقت سے آگاہ فرمایا… اور وہ سب سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہے… اس پر دلائل قائم کیے اور راہ حق کو روشن کر دیا، تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ مخلوق میں سے ایک گروہ نے حق سے روگردانی کی اور انبیاء و رسل کی دعوت کو ٹھکرایا۔ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے، وہ اس سے اعراض کرلیتے ہیں۔‘‘ اور رہے اہل ایمان، تو انھیں جب حقیقت حال کا علم ہوا تو انھوں نے اپنے رب کی نصیحتوں کو قبول کر کے ان کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا اور اطاعت و تعظیم کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ پس وہ ہر بھلائی حاصل کرنے اور ہر برائی کو دور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔