کہہ دیجیے! بھلا بتلاؤ تو! جن چیزوں کو تم پکارتے (پوجتے) ہو سوائے اللہ کے، دکھاؤ مجھے کیا چیز پیدا کی ہے، انھوں نے زمین میں سے؟ یا ہے ان کا کوئی حصہ آسمانوں میں؟ لاؤ تم میرے پاس کوئی کتاب پہلے سے (نازل شدہ) اس (قرآن) سے، یا بقیہ علم سے، اگر ہو تم سچے(4) اور کون شخص زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پکارتا ہے سوائے اللہ کے اس کو کہ نہیں جواب دے سکتا وہ اسے روز قیامت تک؟ اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں(5) اور جب اکٹھے کیے جائیں گے لوگ، تو ہوں گے وہ ان کے دشمن، اور ہوں گے وہ ان کی عبادت سے کفر (انکار) کرنے والے(6)
[4]﴿ قُلۡ﴾ یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالی کا شریک ٹھہرایا، جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جن کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھانے کی قدرت ہی رکھتے ہیں۔ان کے معبودوں کی بے بسی بیان کرتے ہوئے، نیز یہ کہ وہ عبادت کے ذرہ بھر بھی مستحق نہیں۔ ان سے کہہ دیجیے:﴿ اَرُوۡنِيۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٌ فِي السَّمٰوٰتِ﴾ ’’مجھے دکھاؤ کہ انھوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے۔‘‘ کیا انھوں نے اجرام فلکی میں کچھ پیدا کیا، انھوں نے پہاڑ پیدا کیے یا دریا جاری کیے۔ کیا انھوں نے روئے زمین پر حیوانات پھیلائے یا درخت اگائے اور کیا انھوں نے تمام چیزوں کی تخلیق میں معاونت کی ہے۔ دوسروں کی تخلیق تو کجا، خود ان کے لیے اپنے اقرار کے مطابق وہ اپنے بارے میں بھی کسی چیز پر قادر نہیں ہیں، پس یہ اس حقیقت پر قطعی دلیل ہے کہ اللہ تعالی کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ پھر اللہ تعالی نے ان کے پاس نقلی دلیل کے عدم وجود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِيۡتُوۡنِيۡ بِكِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ هٰؔذَاۤ﴾ ’’اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ ۔‘‘ یعنی کوئی ایسی کتاب جو شرک کی دعوت دیتی ہو۔ ﴿ اَوۡ اَثٰرَةٍ مِّنۡ عِلۡمٍ﴾ یا رسولوں کی طرف سے کوئی موروث علم ہو جو ان عقائد کا حکم دیتا ہو… اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ انبیاء و رسل سے منقول کوئی دلیل لانے سے عاجز ہیں بلکہ ہم جزم و یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ تمام انبیاء و مرسلین نے اپنے رب کی توحید کی دعوت دی ہے اور اس کے ساتھ شرک کرنے سے روکا ہے اور یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جو ان کے علم میں سے منقول ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِيۡ كُلِّ اُمَّؔةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ﴾(النحل:16؍36) ’’اور بلاشبہ ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا (جو ان کو حکم دیتا تھا)کہ اللہ تعالی کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔‘‘ ہر رسول نے اپنی قوم سے کہا: ﴿ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾(الاعراف:7؍59) ’’اللہ کی عبادت کرو، تمھارا اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ شرک کے بارے میں مشرکین کی بحث و جدال کسی برہان اور دلیل پر مبنی نہیں، ان کا اعتماد جھوٹے نظریات، گھٹیا آراء اور فاسد عقل پر ہے۔ان کے احوال کا استقرا اور ان کے علوم و اعمال کا تتبع ان نظریات کے فاسد ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نیز ان لوگوں کے احوال پر غور کرنے سے ان کا بطلان ثابت ہوتا ہے جنھوں نے طاغوت کی عبادت میں اپنی عمریں گنوا دیں۔ کیا طاغوت نے دنیا یا آخرت میں انھیں کوئی فائدہ دیا؟
[6,5] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا کسی ایسی ذات کو پکارے جو قیامت تک اس کا جواب نہ دے سکے۔‘‘ یعنی جتنی مدت اس کا دنیا میں قیام ہے وہ اس سے ذرہ بھر فائدہ نہیں اٹھا سکتا ﴿ وَهُمۡ عَنۡ دُعَآىِٕهِمۡ غٰفِلُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں۔‘‘ وہ ان کی کوئی دعا سن سکتے ہیں نہ ان کی کسی پکار کا جواب دے سکتے ہیں یہ ان کا دنیا میں حال ہے اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔ ﴿ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ﴾ ’’اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے۔‘‘ وہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے ﴿ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔‘‘