Tafsir As-Saadi
46:7 - 46:10

اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح ، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر (انکار) کیا حق (قرآن) کا، جب آیا وہ ان کے پاس، یہ جادو ہے ظاہر(7)بلکہ وہ کہتے ہیں کہ (خود) گھڑا ہے اس نے اس کو، کہہ دیجیے: اگر (خود) گھڑا ہے میں نے اس کو تو نہیں اختیار رکھتے تم میرے لیے اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، وہ خوب جانتا ہے ان باتوں کو کہ گفتگو کرتے ہو تم اس(قرآن)کے بارے میں کافی ہے وہ(اللہ)گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان، اور وہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے(8) کہہ دیجیے: نہیں ہوں میں انوکھا رسولوں میں سے اور نہیں جانتا میں کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور نہ تمھارے ساتھ نہیں پیروی کرتا میں مگر اسی کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف، اور نہیں میں مگر ڈرانے والا ظاہر(9) کہہ دیجیے، بھلا بتلاؤ تو! اگر ہو وہ (قرآن) اللہ کی طرف سے، اور کفر کیا تم نے اس کے ساتھ، اور گواہی دی ایک گواہ نے بنی اسرائیل میں سے اس جیسی (کتاب) پر، پھر ایمان لایا وہ اور تکبر کیا تم نے بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (10)

[7] اور جب ان جھٹلانے والوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں ﴿ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’ہماری واضح آیات‘‘ اور وہ اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ ان کے واقع ہونے اور حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا۔یہ آیات انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔وہ اپنی بہتان طرازی اور افترا پردازی کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ١ۙ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’حق کے بارے میں، جب حق ان کے پاس آیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے‘‘یعنی ظاہر جادو ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ان کا یہ قول قلب حقائق کے زمرے میں آتا ہے، جو ضعیف العقل لوگوں میں میں رواج پاسکتا ہے۔ورنہ حق، جسے محمد مصطفیﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور جادو کے مابین بہت بڑا تفاوت اور منافات ہے جو زمین و آسمان کے تفاوت سے بڑھ کر ہے۔ وہ حق، جو غالب اور افلاک کی بلندیوں پر پہنچا ہوا ہے جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بڑھ کر ہے، جس کی حقانیت پر دلائلِ آفاق اور دلائلِ نفس دلالت کرتے ہیں، جس کے سامنے اصحاب بصیرت اور خردمند لوگ سرنگوں ہیں اور اس کا اقرار کرتے ہیں،اسے باطل پر کیسے قیاس کیا جا سکتا ہے؟ جو جادو ہے، جو ظالم، گمراہ، خبیث النفس اور خبیث العمل شخص کے سوا کسی اور سے صادر نہیں ہو سکتا۔ پس جادو ایسے ہی شخص کے لیے مناسب اور اس کے موافق حال ہوتا ہے۔کیا یہ باطل کے سوا کچھ اور ہے؟
[8]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ یعنی کیا وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمدﷺ نے خود اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے اور وہ اللہ تعالی کی طرف سے نہیں ہے۔ ﴿قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ﴾ ’’اگر میں نے اسے بنایا ہے۔‘‘ پس اللہ مجھ پر قدرت رکھتا ہے اور جس کام میں تم مشغول ہو اسے بھی خوب جانتا ہے۔ اس نے مجھے اس افترا پردازی کی سزا کیوں کر نہ دی جس کو تم میری طرف منسوب کرتے ہو؟ پس کیا ﴿ فَلَا تَمۡلِكُوۡنَ لِيۡ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ اگر اللہ تعالی مجھے کسی ضرر میں مبتلا کرنے یا رحمت سے نوازنے کا ارادہ کرے تو تم اللہ تعالی کے مقابلے میں میرے لیے کسی بھی چیز کا اختیار رکھتے ہو؟ ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَا تُفِيۡضُوۡنَ فِيۡهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ﴾ ’’وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ وہی میرے اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے۔‘‘ پس اگر میں نے اللہ تعالی پر جھوٹ گھڑا ہوتا تو مجھے اپنی گرفت میں لے کر ایسی سزا دیتا جسے ہر کوئی دیکھتا، کیونکہ اگر میں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو یہ سب سے بڑی افترا پردازی ہوتی۔ پھر اللہ تبارک وتعالی نے ان کو، حق کے بارے میں ان کے عناد اور مخاصمت کے باوجود توبہ کی طرف بلایا اور فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾ یعنی توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہو جاؤ ، اپنے گناہوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالی تمھارے گناہ بخش دے گا، تم پر رحم فرمائے گا، تمھیں بھلائی کی توفیق سے نوازے گا اور تمھیں بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔
[9]﴿ قُلۡ مَا كُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ﴾ یعنی میں کوئی پہلا رسول نہیں جو تمھارے پاس آیا ہوں کہ تم میری رسالت کو عجیب و غریب پاؤ اور میری دعوت کا انکار کرو، مجھ سے پہلے بھی انبیاء و رسل آچکے ہیں، میری دعوت اور ان کی دعوت میں موافقت ہے ، پھر تم کس بنا پر میری رسالت کا انکار کر رہے ہو۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرِيۡ مَا يُفۡعَلُ بِيۡ وَلَا بِكُمۡ﴾ ’’میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟‘‘ یعنی میں تو صرف ایک بشر ہوں، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں، میرے اور تمھارے بارے میں صرف اللہ تعالی ہی تصرف کرتا ہے، مجھ پر اور تم پر وہی اپنے فیصلے نافذ کرتا ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ پیش نہیں کرتا ﴿ وَمَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور میں تو صرف علی الاعلان ڈرانے والا ہوں۔‘‘ لہٰذا اگر تم میری رسالت کو مانتے ہوئے میری دعوت کو قبول کر لو تو یہ دنیا و آخرت میں تمھاری خوش نصیبی اور تمھارا بہرۂ وافر ہے۔ اور اگر تم اس دعوت کو ٹھکرا دو تو تمھارا حساب اللہ تعالی کے ذمہ ہے۔میں نے تو تمھیں برے انجام سے خبردار کر دیا ہے اور جس نے خبردار کر دیا وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[10]﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ وَكَفَرۡتُمۡ بِهٖ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَلٰى مِثۡلِهٖ فَاٰمَنَ وَاسۡتَكۡبَرۡتُمۡ﴾ یعنی مجھے بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ تعالی کی طرف سے ہو اور اہل کتاب میں سے ان توفیق یافتہ لوگوں نے بھی اس کی صحت کی شہادت دی ہو، جن کے پاس حق ہے اور وہ پہچانتے ہیں کہ یہ بھی حق ہے، پس وہ اس پر ایمان لے آئے اور ہدایت یافتہ ہوئے، تو انبیاء کرام کی خبر اور ان کی متبعین میں مطابقت ہوگئی۔اے جاہل اور کم عقل لوگو!کیا یہ (تمھارا رویہ)سب سے بڑے ظلم اور شدید ترین کفر کے سوا کچھ اور ہے؟ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ اور یہ ظلم ہے کہ حق قبول کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود تکبر سے اسے ٹھکرا دیا جائے۔