اور(یاد کریں)جب ہم نے پھیر دی آپ کی طرف ایک جماعت جنوں کی، و ہ سنتے تھے قرآن، پس جب وہ حاضر ہوئے اس(کی تلاوت)کو تو انھوں نے کہا خاموش رہو پس جب ختم کی گئی(تلاوت) تو لوٹے وہ(جن)اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے(بن کر)(29) انھوں نے کہا اے ہماری قوم! بے شک ہم نے سنی ہے ایک کتاب جو نازل کی گئی ہے بعد موسیٰ کے ، وہ تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے ہیں، وہ رہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور راہ مستقیم کی طرف (30) اے ہماری قوم! قبول کر لو اللہ کے داعی(کی بات)کو، اور ایمان لے آؤ اس پر وہ بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور بچائے گا وہ تمھیں نہایت درد ناک عذاب سے (31) اور جو کوئی نہیں قبول کرے گا اللہ کے داعی(کی بات)کو تو نہیں ہے وہ عاجز کرنے والا(اللہ کو) زمین میں اور نہیں ہو گا اس کا، سوائے اس (اللہ) کے، کوئی حمایتی ہی(بلکہ)یہ لوگ ہیں کھلی گمراہی میں (32)
[29] اللہ تبارک و تعالی نے جناب محمد مصطفیﷺ کی تمام مخلوق،یعنی انسانوں اور جنوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس لیے تمام مخلوق کو نبوت و رسالت کی تبلیغ ضروری ہے۔انسانوں کو دعوت دینا اور ان کو برے انجام سے ڈرانا تو آپ کے لیے ممکن ہے۔رہے جنات تو اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے ان کو آپ کی طرف پھیر دیا، اللہ تعالی نے بھیجی ﴿ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡهُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا﴾ آپ کی طرف ’’جنات کی ایک جماعت تاکہ وہ قرآن سنیں جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے خاموش ہو جاؤ ‘‘یعنی انھوں نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تلقین کی۔ ﴿ فَلَمَّا قُضِيَ﴾ جب قرآن پڑھا جا چکا اور انھوں نے اس کو یاد کر لیا اور قرآن نے ان پر اثر کیا ﴿ وَلَّوۡا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ مُّنۡذِرِيۡنَ﴾ اپنی قوم کی خیرخواہی کرنے اور ان پر حجت قائم کرنے کے لیے اپنی قوم کے پاس گئے۔اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ کی مدد کرنے اور جنات میں آپ کی دعوت کو پھیلانے کے لیے جنات کو مقرر فرمایا۔
[30]﴿ قَالُوۡا يٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا كِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۢۡ بَعۡدِ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھوں نے کہا: اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے، جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔‘‘ یہاں انجیل کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیاکیونکہ حضرت موسیu کی کتاب انجیل کے لیے اصل اور بنی اسرائیل کے لیے احکام شریعت کی بنیاد ہے۔انجیل تو حضرت موسیu کی کتاب کی تکمیل اور بعض احکام میں ترمیم کرتی ہے۔ ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ يَهۡدِيۡۤ﴾ ’’اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور راہنمائی کرتی ہے۔‘‘ یعنی یہ کتاب جو ہم نے سنی ہے ﴿ اِلَى الۡحَقِّ﴾ حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہے، حق سے مراد ہے، ہر مطلوب اور ہر خبر میں راہ صواب۔ ﴿وَاِلٰى طَرِيۡقٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف‘‘ راہ نمائی کرتی ہے جو اللہ تعالی اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔مثلا اللہ تعالی کے بارے میں علم، نیز اس کے احکام دینی اور احکام جزا کا علم۔
[31] جب وہ قرآن کی مدح و توصیف اور اس کا مقام اور مرتبہ بیان کر چکے تو انھوں نے اپنی قوم کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا: ﴿يٰقَوۡمَنَاۤ اَجِيۡبُوۡا دَاعِيَ اللّٰهِ﴾ ’’اے ہماری قوم! اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول کرو۔‘‘ یعنی جو صرف اپنے رب کی طرف دعوت دیتا ہے وہ اپنی کسی غرض اور کسی لالچ کے لیے تمھیں دعوت نہیں دیتا وہ تو تمھیں صرف تمھارے رب کی طرف بلاتا ہے تاکہ تمھارا رب تمھیں ثواب عطا کرے اور تم سے ہر برائی اور شر کو دور کر دے۔ اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُجِرۡؔكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’ اللہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں ددناک عذاب سے پناہ میں رکھے گا۔‘‘ جب اس نے انھیں درد ناک عذاب سے نجات دے دی تو اس کے بعد نعمتوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔اور یہ اس شخص کے لیے جزا ہے جو اللہ تعالی کے داعی کی دعوت پر لبیک کہتا ہے۔
[32]﴿ وَمَنۡ لَّا يُجِبۡ دَاعِيَ اللّٰهِ فَلَيۡسَ بِمُعۡجِزٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول نہیں کرے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے، کوئی بھاگنے والا اس سے بھاگ سکتا ہے نہ کوئی مقابلہ کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے۔ ﴿ وَلَيۡسَ لَهٗ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءُ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ اس شخص کی گمراہی سے بڑھ کر کون سی گمراہی ہو سکتی ہے، جسے انبیاء و رسل علیہ السلام نے دعوت دی، جس کے پاس برے انجام سے ڈرانے والے واضح دلائل اور متواتر براہین لے کر پہنچے مگر اس نے روگردانی اور تکبر کا مظاہرہ کیا۔