اور جس دن پیش کیے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، آگ پر، (تو کہا جائے گا) کیا نہیں ہے یہ حق؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں، قسم ہمارے رب کی!(یہ حق ہے)اللہ فرمائے گا پس چکھو تم (یہ) عذاب بوجہ اس کےکہ تھے تم کفر کرتے (34) پس آپ صبر کریں جس طرح صبر کیا عزم و ہمت والے رسولوں نے، اور نہ جلدی طلب کریں(عذاب) ان کے لیے گویا کہ وہ(کافر)، جس دن دیکھیں گے اس(عذاب)کو جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں (تو سمجھیں گے کہ) نہیں ٹھہرے وہ (دنیا میں) مگر ایک گھڑی ہی دن کی (یہ تو) پہنچا دینا ہے، سو نہیں ہلاک کیا جائے گا (کوئی اور) سوائے نافرمان لوگوں کے (35)
[34] جہنم کے سامنے پیش کیے جانے پر، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے، کفار کی جوحالت ہوگی،اللہ تعالی اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ ان کو زجروتوبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا:﴿ اَلَيۡسَ هٰؔذَا بِالۡحَقِّ١ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَرَبِّنَا﴾ ’’کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے، کیوں نہیں ہمارے رب!‘‘ پس وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے اور ان کا جھوٹ واضح ہو جائے گا۔ ﴿ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ ’’اللہ فرمائے گا: اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو‘‘ یعنی ہمیشہ چمٹے رہنے والے عذاب کا مزا چکھو، جس طرح کفر تمھاری دائمی اور لازمی صفت تھی۔
[35]پھر اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ آپ کو جھٹلانے والوں اور آپ سے عداوت رکھنے والوں کی ایذا رسانی پر صبر کریں اور ان کو اللہ تعالی کی طرف دعوت دیتے رہیں ،نیز یہ کہ وہ اولوالعزم انبیاء و رسل کی پیروی کریں جو تمام مخلوق کے سردار، عزیمتوں کے مالک اور بلندہمت تھے، جن کا صبر بہت عظیم اور جن کا یقین کامل تھا۔ پس تمام مخلوق میں وہی سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کو نمونہ بنایا جائے ،ان کے آثار کی پیروی کی جائے اور ان کی روشنی سے راہنمائی حاصل کی جائے۔ چنانچہ رسول مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایسا صبر کیا کہ آپ سے پہلے کسی نبی نے ایسا صبر نہیں کیا۔ آپ کے تمام دشمنوں نے آپ پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیے، ان سب نے اللہ تعالی کی طرف دعوت کا راستہ روکا، محاربت اور عداوت میں ان سے جو کچھ ممکن تھا انھوں نے کیا… مگر رسول اللہﷺ اللہ تعالی کے احکام کو بیان کرتے رہے، اللہ تعالی کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتے رہے اور جو اذیتیں آپ کو پہنچتیں، ان پر صبر کرتے رہے… یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آپ کو زمین پر اقتدار سے سرفراز فرمایا، اس نے آپ کے دین کو تمام ادیان پر اور آپ کی امت کو تمام امتوں پر غالب کر دیا… صلی اللّٰہ علیہ وسلم تسلیما۔﴿ وَلَا تَسۡتَعۡجِلۡ لَّهُمۡ﴾یعنی عذاب کے لیے جلدی مچانے والے اہل تکذیب کے لیے جلدی نہ کیجیے۔ یہ سب ان کی جہالت اور حماقت کے سبب سے ہے اور ان کی جہالت آپ کو ہلکا اور حقیر نہ سمجھے۔ان کا جلدی مچانا آپ کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ آپ ان کے لیے بددعا کریں، کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَ مَا يُوۡعَدُوۡنَ١ۙ لَمۡ يَلۡبَثُوۡۤا﴾ ’’جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے) گویا وہ نہیں رہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ اِلَّا سَاعَةً مِّنۡ نَّهَارٍ﴾ ’’مگر گھڑی بھر دن کی‘‘ پس نہایت قلیل مدت کے لیے ان کا متمتع ہونا آپ کو غم زدہ نہ کرے۔بالآخر انھیں سخت عذاب کا سامنا ہے۔ ﴿ بَلٰغٌ﴾یہ دنیا، اس کی متاع اور اس کی لذات و شہوات، تھوڑے وقت کے لیے اور ختم ہونے والی چیز ہے۔ اور یہ قرآن عظیم جو ہم نے پوری طرح تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے، تمھارے لیے کافی اور آخرت کے لیے زاد راہ ہے، کتنا اچھا ہے یہ زادراہ! یہ ایسا زادراہ ہے جو نعمتوں بھری جنت تک پہنچاتا اور دردناک عذاب سے بچاتا ہے، یہ افضل ترین زادراہ ہے جسے مخلوق اپنے ساتھ لیتی ہے اور یہ جلیل ترین نعمت ہے جس سے اللہ تعالی نے ان کو نوازا ہے۔﴿ فَهَلۡ يُهۡلَكُ﴾ ’’وہی ہلاک ہوں گے۔‘‘ یعنی عقوبات کے ذریعے سے ﴿ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡفٰسِقُوۡنَ﴾ جن کے اندر کوئی بھلائی نہیں، وہ اپنے رب کی اطاعت کے دائرے سے نکل گئے اور انھوں نے اس حق کو قبول نہ کیا جو ان کے پاس رسول لے کر آئے تھے، ان کی کوتاہی کے باوجود اللہ تعالی نے ان کا عذر قبول کیا، ان کو برے انجام سے ڈرایا، مگر وہ اپنے کفر اور تکذیب پر جمے رہے۔ہم اللہ تعالی سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس رویے سے بچائے۔