وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کی راہ سے ضائع کر دیے اللہ نے ان کے عمل(1) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور وہ ایمان لائے اس (قرآن) پر بھی جو نازل کیا گیا محمد پر اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے، اللہ نے دور کر دیں ان سے ان کی برائیاں اور اصلاح کر دی ان کے حال کی(2) یہ اس لیے کہ بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، انھوں نے پیروی کی باطل کی، اور بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے انھوں نے پیروی کی حق کی اپنے رب کی طرف سے، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ لوگوں کے لیے مثالیں ان کی(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ آیات کریمہ اہل ایمان کے ثواب، نافرمانوں کے عذاب، اس کے سبب اور مخلوق کو اس سے عبرت حاصل کرنے کے ذکر پر مشتمل ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یہ رؤ سائے کفر اور ائمۂ ضلالت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے ، یعنی انبیاء و رسل اور ان کی دعوت سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو روک رکھا ہے۔ ﴿ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے باطل کر دیا اور اس سبب سے ان کو بدبختی میں مبتلا کر دیا۔ یہ ان کے اعمال کو شامل ہے جو یہ لوگ اس لیے کرتے تھے تاکہ حق اور اولیاء اللہ کے خلاف سازشیں کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب اور سازشوں کو ان کے سینوں ہی میں دبا دیا اور وہ اپنے مقصد کو نہ پا سکے۔ اور ان کے وہ اعمال جن پر وہ ثواب کی امید رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کو اکارت کر دے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے باطل کی پیروی کی۔ اور اس سے مراد ہر وہ غایت مطلوب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو، مثلاً: بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت۔ چونکہ باطل کی مدد کے لیے کیے گئے تمام اعمال باطل ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کیے گئے تمام اعمال اکارت ہیں۔
[2]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ وہ لوگ جو اس چیز پر ایمان لائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل پر نازل کی خاص طور پر جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر نازل کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ کو ادا کرتے ہوئے نیک اعمال کیے﴿ كَفَّرَ﴾ ’’مٹا دے گا‘‘ اللہ تعالیٰ﴿ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ ﴾ ان کے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو۔جب ان کے گناہ مٹا دیے گئے تو انھوں نے دنیا اور آخرت کے عذاب سے نجات پائی۔ ﴿ وَاَصۡلَحَ بَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے دین و دنیا، ان کے قلوب اور ان کے اعمال کی اصلاح کرے گا، ان کے ثواب کو نشوونما دے کر اس کی اصلاح کرے گا، نیز اللہ تعالیٰ ان کے تمام احوال کی اصلاح کرے گا۔
[3] اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اتَّبَعُوا الۡحَقَّ ﴾’’انھوں نے حق کی اتباع کی‘‘ جو صدق و یقین اور جس پر یہ قرآن عظیم مشتمل ہے ﴿ مِنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ان کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے جس نے اپنی نعمتوں سے ان کی تربیت کی اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کی پس اللہ تعالیٰ نے حق کے ذریعے سے ان کی تربیت کی، انھوں نے حق کی اتباع کی تب ان کے تمام امور درست ہو گئے۔چونکہ ان کا منتہائے مقصود حق سے متعلق ہے، جو ہمیشہ باقی رہنے والے اللہ کی طرف منسوب اور حق مبین تھا، اس لیے یہ وسیلہ درست اور باقی رہنے والا اور اس کا ثواب بھی باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اہل خیر اور اہل شر کو کھول کھول کر بیان کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کے اوصاف بیان کر دیے جن کے ذریعے سے ان کو پہچانا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے ان میں امتیاز کیا جاتا ہے ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘