Tafsir As-Saadi
47:10 - 47:11

کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پھر دیکھتے وہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ تباہی ڈال دی اللہ نے ان پر، اور کافروں کے لیے اس جیسی سزائیں ہیں (10) یہ اس لیے کہ بلاشبہ اللہ مدد گار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے، اور بے شک کافر لوگ، نہیں کوئی مددگار ان کا (11)

[10] رسول مصطفیﷺ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے کیوں نہیں؟ ﴿ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔‘‘ کیونکہ وہ اپنے انجام کو بدترین انجام پائیں گے۔ کیونکہ وہ اپنے دائیں بائیں جدھر بھی دیکھیں گے وہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو پائیں گے کہ وہ ہلاک ہو گئے، ان کے کفر اور تکذیبِ انبیاء نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، ان کا نام و نشان مٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کے اموال اور گھر بار کو تباہ و برباد کر دیا بلکہ ان کے اعمال اور ان کی سازشوں کا تار و پود بکھیر دیا۔ ہر زمان و مکان میں کافروں کا اسی قسم کا برا انجام ہوتا ہے، اور انھیں بری سزائیں ملتی ہیں، رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب سے نجات دیتا ہے اور انھیں بے پایاں ثواب عطا کرتا ہے۔
[11]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوۡلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا والی و مددگار ہے۔‘‘ اس نے اپنی رحمت سے ان کی سر پرستی کی، انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لایا ان کی جزا اور فتح و نصرت کی ذمہ داری لی۔ ﴿ وَاَنَّ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی سر پرستی کے تعلق کو قطع کر دیا اور اپنے آپ پر اس کی رحمت کے دروازے بند کر لیے۔ ﴿ لَا مَوۡلٰى لَهُمۡ﴾ ان کا کوئی والی و مددگار نہیں ہے جو سلامتی کے راستوں کی طرف ان کی راہ نمائی کرے، انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی سزا سے بچائے بلکہ ان کے سر پرست تو طاغوت ہیں جو انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے آتے ہیں۔ یہی لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔