اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ پھر جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت محکم اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں قتال (جہاد) کا تو دیکھتے ہیں آپ ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ آپ کی طرف مانند دیکھنے اس شخص کے کہ غشی طاری ہو گئی ہو اس پر بہ سبب موت کے پس ہلاکت ہے ان کے لیے (20) اطاعت کرنا اور بھلی بات کہنا (بہتر ہے) پس جب پختہ ہو جائے حکم (جہاد کا) پس اگر وہ سچے رہیں اللہ سے تو ہو گا (یہ سچ) بہتر ان کے لیے (21) پس تحقیق توقع ہے تم (سے) اگر حکمران بن جاؤ تم یہ کہ فساد کرو تم زمین میں اور کاٹ ڈالو تم اپنی رشتے داریاں (22) یہی وہ لوگ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نے، پس اس نے بہرا کر دیا ان کو اور اندھی کر دیں آنکھیں ان کی (23)
[20] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَةٌ﴾ ’’کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو ﴿ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ مُّحۡكَمَةٌ﴾ ’’پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اس کے عمل کو لازم ٹھہرایا گیا ہو ﴿ وَّذُكِرَ فِيۡهَا الۡقِتَالُ﴾ ’’اس میں جہاد کا ذکر ہو۔‘‘ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لیے فرمایا:﴿ رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يَّنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ نَظَرَ الۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ الۡمَوۡتِ﴾ ’’جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ تمھاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں، جس طرح کسی پر موت کی بے ہوشی طاری ہو رہی ہو۔‘‘ ان کے قتال کو ناپسند کرنے اور اس کی شدت کے باعث، یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّؔا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً﴾(النساء:4؍77) ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا، جن سے کہا گیا، اپنے ہاتھوں کو روک لو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، پس جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔‘‘ ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے حال کے زیادہ لائق ہے۔
[21,20]﴿ فَاَوۡلٰى لَهُمۡۚ۰۰ طَاعَةٌ وَّقَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ﴾یعنی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکم ہی کی تعمیل کریں جو ان پر واجب کیا گیا ہے، اسی پر اپنے ارادوں کو جمع رکھیں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ ان کے لیے ایسا حکم مشروع کیا جائے جس کی تعمیل ان پر شاق گزرے۔ اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ عفو و عافیت پر خوش ہونا چاہیے۔﴿ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ﴾ ’’پس جب بات پختہ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب کوئی سخت اور واجب معاملہ آ گیا تو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر کے اور اس کی اطاعت میں پوری کوشش کے ذریعے سے، اس کے ساتھ صدق کا معاملہ رکھتے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ تو یہ حال ان کے پہلے حال سے بہتر ہوتا، اور اس کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں:(۱)بندہ ہر لحاظ سے ناقص و ناتمام ہے، اسے کوئی قدرت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے، لہٰذا وہ اس سے زیادہ طلب نہ کرے جس کے کنارے پر وہ کھڑا ہوا ہے۔(۲) جب اس کا نفس مستقبل سے متعلق ہو جاتا ہے، تو وہ حاضر اور مستقبل کے کام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے۔ رہی موجودہ صورتِ حال، تو ارادہ اور ہمت، اس سے نکل کر دوسری طرف (مستقبل کی امیدوں میں)منتقل ہو جاتے ہیں اور عمل ارادے کے تابع ہوتا ہے اور رہا مستقبل تو اس کے آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے تو اسے کسی کام کی توفیق اور مدد حاصل نہیں ہوتی۔ تب اس کے خلاف مدد نہیں کی جاتی۔(۳) وہ بندہ جو وقت موجود میں، عمل میں اپنی سستی اور کاہلی کے باوجود مستقبل سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، وہ اس سست اور کوتاہ اندیش آدمی کی طرح ہے جسے مستقبل میں پیش آنے والے امور پر قدرت رکھنے کا قطعی یقین ہے۔ اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جائے اور جس امر کا ارادہ کیا ہے اسے نہ کرے اور نفس کو اس پر آمادہ کر لیا ہے ۔مناسب ہے کہ بندہ اپنے ارادے، اپنی فکر اور اپنی نشاط کو وقت موجود پر مجتمع کرے اور اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق اپنے وظیفے کو ادا کرے۔ پھر جب بھی کوئی وقت آئے تو نشاط اور مجتمع بلند ارادے کے ساتھ کسی تفرقہ کے بغیر اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے اس کا استقبال کرے۔ پس یہ شخص اپنے تمام امور میں توفیق اور درستی عطا کیے جانے کا مستحق ہے۔
[22] پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے، خیر کی طرف آنے کی بجائے شر کی طرف بھاگتا ہے ، لہٰذا فرمایا:﴿فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ﴾ ’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘ یعنی یہ دو امور ہیں یا تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر التزام اور اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، پس وہاں بھلائی، ہدایت اور فلاح ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور اس سے اعراض کرنا، تب اس صورت حال میں فساد فی الارض، معصیت پر عمل اور قطع رحمی کے سوا کچھ نہیں۔
[23]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ جنھوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی ﴿ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہو گئے۔ ﴿ فَاَصَمَّهُمۡ وَاَعۡمٰۤى اَبۡصَارَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ ایسی بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انھیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل و براہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔