Tafsir As-Saadi
47:24 - 47:24

کیا پس نہیں غور وفکر کرتے وہ لوگ قرآن میں یا دلوں پر تالے لگے ہیں ان کے؟ (24)

[24] کتاب اللہ سے روگردانی کرنے والے یہ لوگ، کتاب اللہ میں تدبر اور غور و فکر کیوں نہیں کرتے، جیسا کہ غور و فکر کرنے کا حق ہے، اگر انھوں نے اس میں اچھی طرح تدبر کیا ہوتا تو یہ ہر بھلائی کی طرف ان کی راہ نمائی کرتی، انھیں ہر برائی سے بچاتی، ان کے دلوں کو ایمان سے اور ان کی عقلوں کو ایقان سے لبریز کر دیتی، وہ انھیں بلند مقاصد اور انمول عطیات تک پہنچاتی، ان کے سامنے وہ راستہ روشن کر دیتی جو انھیں اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز اس جنت کی تکمیل کرنے والے امور پر اور اس کو فاسد کرنے والے امور پر دلالت کرتی، انھیں وہ راستہ بھی دکھاتی جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف جاتا ہے اور یہ بھی بتاتی کہ کس چیز کے ذریعے سے اس سے بچا جائے۔ وہ انھیں ان کے رب، اس کے اسماء و صفات اور اس کے احسان کی معرفت عطا کرتی، ان میں بے پایاں ثواب حاصل کرنے کا شوق پیدا کرتی اور انھیں درد ناک عذاب سے ڈراتی۔ ﴿ اَمۡ عَلٰى قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُهَا﴾ ’’یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔‘‘ یعنی دلوں میں روگردانی، غفلت اور اعتراضات کوٹ کوٹ کر بھر دیے گئے ، پھر ان کو بند کر کے ان پر تالے لگا دیے پس ان میں بھلائی کبھی داخل نہیں ہو گی؟ فی الواقع ان کا یہی حال ہے۔