Tafsir As-Saadi
47:33 - 47:33

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، اور نہ باطل کرو اپنے عملوں کو (33)

[33] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ایسی بات کا حکم دیتا ہے جس کے ذریعے سے انھیں دینی اور دنیاوی سعادت حاصل اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ ہے دین کے اصول و فروع اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت۔ اور اطاعت سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اخلاص اور کامل متابعت کے ساتھ مامور بہ طریقے سے تعمیل کرنا اور نواہی سے اجتناب کرنا۔اللہ تعالیٰ کے فرمان:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔‘‘ میں نہی عمل کو بجا لانے کے بعد اس کو فاسد کرنے والے امور کے ذریعے سے اس کے باطل کرنے کو شامل ہے، مثلاً: نیکی کرنے کے بعد احسان جتلانا، تکبر ، فخر اور شہرت کی خواہش کرنا وغیرہ، نیز ایسے گناہوں کا ارتکاب جو نیک اعمال کو مضمحل کر کے ان کے اجر و ثواب کو ضائع کر دیتے ہیں۔ نیز یہ نہی عمل کو اس کے وقوع کے وقت، اس کو فاسد کرنے کو شامل ہے، مثلاً: عمل کو مکمل کیے بغیر چھوڑ دینا یا کسی ایسے امر کا ارتکاب کرنا جو اس عمل کی مفسدات میں شمار ہوتا ہے۔ پس نماز، روزہ اور حج کو باطل کرنے والے امور اسی زمرے میں آتے ہیں اور ان سے روکا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ سے فقہاءS بغیر کسی موجب کے فرض کو منقطع کرنے کی تحریم اور نفل کو منقطع کرنے کی کراہت پر استدلال کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اعمال کو باطل کرنے سے روکا ہے تو اس نے گویا اعمال کی اصلاح، اس کی تکمیل و اتمام اور ان کو اس طرح بجا لانے کا حکم دیا ہے جو علم و عمل کے اعتبار سے درست ہو۔