جس نے اطاعت کی رسول کی پس تحقیق اطاعت کی اس نے اللہ کی اور جس نے روگردانی کی تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر نگہبان(80) اور (منافق) کہتے ہیں (ہمارا کام تو) فرماں برداری ہے، پھر جب نکلتے ہیں وہ آپ کے پاس سے تورات کو مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان میں سے خلاف اس (بات) کے جو کہتے ہیں آپ، اور اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں، پس اعراض کریں آپ ان سے اور توکل کریں اللہ پر اور کافی ہے اللہ کارساز(81)
[80] یعنی ہر وہ شخص جس نے اوامر و نواہی میں رسول اللہﷺکی اطاعت کی ﴿ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ﴾ ’’اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘ کیونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت، اس کی وحی اور تنزیل ہے۔ یہ آیت کریمہ رسول اللہﷺکی عصمت کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانے کے بارے میں معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا اور اطاعت کرنے والوں کی مدح نہ فرماتا۔اور اس کا شمار مشترکہ حقوق میں ہوتا ہے۔ یہ حقوق تین اقسام میں منقسم ہوتے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا حق۔ یہ حق مخلوق میں سے کسی کے لیے نہیں ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طرف رغبت ہے اور ان کے توابع ہیں۔(۲)رسول اللہﷺکا حق، جو صرف آپ کے ساتھ مختص ہے وہ ہے آپ کی توقیر اور آپ کا احترام اور آپ کی مدد کرنا۔(۳) حقوق کی تیسری قسم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺکے درمیان مشترکہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، ان سے محبت کرنا اور ان کی اطاعت کرنا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حقوق کو اس آیت کریمہ میں جمع کر دیا ہے ﴿ لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ١ؕ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ﴾(الفتح : 48؍9) ’’تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔‘‘پس جس نے رسول اللہﷺکی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اس کے لیے وہی ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مترتب ہوتا ہے ﴿ وَمَنۡ تَوَلّٰى ﴾ ’’جس نے (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے) منہ موڑا‘‘ وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہیں کر سکتا ﴿ فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا﴾ ’’ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو اس لیے مبعوث نہیں کیا کہ آپ ان کے اعمال و احوال کی نگہبانی کریں، بلکہ ہم نے تو آپ کو مبلغ، کھول کھول کر بیان کرنے والا اور ناصح بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے آپ کے لیے آپ کا اجر واجب ہو گیا۔ خواہ وہ راہ راست اختیار کریں یا نہ کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰۲۱ لَسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍ﴾(الغاشیہ : 88؍21۔22) ’’تم ان کو نصیحت کرتے رہو اور تم صرف نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر نگہبان نہیں۔‘‘
[81] نیز یہ بھی لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ظاہر و باطن اور جلوت و خلوت میں ہو۔ رہا وہ شخص جو لوگوں کے سامنے اطاعت اور التزام کا اظہار کرتا ہے اور جب تنہا ہوتا ہے یا اپنے ہم مشرب ٹولے کے ساتھ ہوتا ہے تو اطاعت ترک کر دیتا ہے اور ایسے کام کرتا ہے جو اطاعت کی ضد ہوتے ہیں تو ایسی اطاعت جس کا اس نے اظہار کیا ہے اس کے لیے نفع مند اور مفید نہیں ہے۔ اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ طَاعَةٌ ﴾ ’’وہ کہتے ہیں مان لیا۔‘‘ یعنی جب وہ آپﷺکے پاس ہوتے ہیں تو اطاعت کا اظہار کرتے ہیں ﴿ فَاِذَا بَرَزُوۡا مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ’’جب وہ آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں‘‘ یعنی تنہا ہوتے ہیں اور ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ کوئی ان کی اس حالت سے مطلع نہیں ہوتا ﴿ بَيَّتَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡهُمۡ غَيۡرَ الَّذِيۡ تَقُوۡلُ ﴾ ’’مشورہ کرتے ہیں رات کو کچھ لوگ ان میں سے اس کے خلاف جو آپ کہتے ہیں۔‘‘ تو رات کے وقت آپﷺکی اطاعت کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں اور وہاں ان کے پاس نافرمانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بَيَّتَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡهُمۡ غَيۡرَ الَّذِيۡ تَقُوۡلُ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ وہ معاملہ جس کو انھوں نے دائمی وتیرہ بنایا ہوا تھا وہ عدم اطاعت کا رویہ تھا۔ کیونکہ (تَبْیِیْت) سے مراد رات کے وقت اس طرح معاملات کی تدبیر کرنا ہے کہ اس پر رائے کا استقرار ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاللّٰهُ يَكۡتُبُ مَا يُبَيِّتُوۡنَ ﴾ ’’اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ان کارستانیوں کو محفوظ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کو ان کارستانیوں کی پوری پوری جزا دے گا یہ ان کے لیے وعید ہے۔ان کی ان کارستانیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اعراض اور سختی کا حکم دیا ہے۔ اگر آپﷺنے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا، اس کے دین کی نصرت اور اس کی شریعت کے نفاذ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی تو وہ آپﷺکو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ﴿ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اللہ تعالیٰ کافی کارساز ہے۔‘‘