Tafsir As-Saadi
47:36 - 47:38

یقیناً حیاتِ دنیا (تو ایک) کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو (تو) وہ (اللہ) دے گا تمھیں اجر تمھارے، اور وہ نہیں مانگے گا تم سے مال تمھارے (36) اگر اللہ سوال کرے تم سے اس (تمام) مال کا، پھر وہ خوب اصرار کرے تم سے تو تم بخیلی کرو گے، اور وہ نکال باہر کرے گا کینے تمھارے (37) سنو! تم (تو) وہ لوگ ہو کہ بلائے جاتے ہو تاکہ تم خرچ کرو اللہ کی راہ میں ، پھر بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں، اور جو بخل کرتا ہے تو یقیناً وہ بخل کرتا ہے اپنے آپ سے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو (اللہ) بدل لائے گا (دوسرے) لوگ سوائے تمھارے، پھر نہ ہوں گے وہ تم جیسے (38)

[37,36] یہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے، کہ دنیا محض لہو و لعب ہے، یعنی بدن کے لیے لعب قلوب کے لیے لہو، اس میں زہد کی ترغیب ہے۔ پس بندہ اپنے مال و متاع، اولاد، اپنی زیب و زینت، اپنی بیویوں، ماکولات و مشروبات سے حصول لذت اپنے مساکن و مجالس، مناظر اور ریاست میں مگن ہو کر غافل اور ہر بے فائدہ عمل میں کھیلتا رہتا ہے بلکہ وہ بے کاری، غفلت اور گناہوں کے دائرے میں گھرا رہتا ہے، یہاں تک کہ اپنی دنیا کی زندگی کو مکمل کر لیتا ہے اور اس کی اجل آ جاتی ہے۔جب یہ تمام چیزیں منہ موڑ کر بندے سے جدا ہو جاتی ہیں اور بندے کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خسارہ اور محرومی واضح ہو جاتی ہے اور اس کا عذاب آ موجود ہوتا ہے تو یہ چیز خردمند شخص کے لیے، دنیا میں زہد، عدم رغبت اور اس کے معاملے میں اہتمام کی موجب ہے ۔ وہ کام جو ہر چیز سے زیادہ اہتمام کے لائق ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا﴾ ’’اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لاؤ اور تقویٰ پر قائم رہو جو ایمان کے لوازم اور اس کے تقاضوں میں سے ہے۔ اور تقویٰ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو ترک کرتے ہوئے، دائمی طور پر اس کی رضا کے مطابق عمل کرنا۔ تو یہ عمل بندے کو فائدہ دیتا ہے اور یہی وہ عمل ہے جو اس لائق ہے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کی جائے اور اس کی طلب میں اپنے عزم و ارادے اور اپنی جدوجہد کو صرف کیا جائے۔ اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے، ان پر رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر مطلوب و مقصود ہے، تاکہ انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے ۔بنابریں فرمایا:﴿وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا يُؤۡتِكُمۡ اُجُوۡرَؔكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ اَمۡوَالَكُمۡ﴾ ’’اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں تمھارا اجر دے گا اور تم سے تمھارا مال طلب نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں کوئی ایسی تکلیف نہیں دینا چاہتا جو تمھارے لیے مشقت اور مشکل کا باعث ہو، مثلاً: وہ تم سے مال لے کر تمھیں مال کے بغیر نہیں چھوڑنا چاہتا یا تمھیں کسی ایسے نقصان سے دو چار نہیں کرنا چاہتا جس سے تمھیں ضرر پہنچے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّسۡـَٔلۡكُمُوۡهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَيُخۡرِجۡ اَضۡغَانَكُمۡ﴾ یعنی جب وہ تم سے اس چیز کا مطالبہ کرے جس کو خرچ کرنا تم ناپسند کرتے ہو تو وہ دلوں میں چھپے ہوئے کینے اور بدنیتی کو ظاہر کر دے گا ۔
[38] اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمھارے اموال طلب کرے اور تمھارے تمام مال کا سوال کر کے تمھیں تنگ کرے تو تم اس کی تعمیل نہ کرو گے اور یہ کہ ﴿ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ تمھیں اس طریقے سے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، جس میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحت ہے ﴿ فَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يَّبۡخَلُ﴾ ’’پس تم میں سے جو شخص بخل کرے۔‘‘ تب تمھارا کیا حال ہو، اگر اللہ تعالیٰ تم سے، کسی ایسے معاملے میں خرچ کرنے کے لیے، تمھارے مال کا سوال کرے، جہاں خرچ کرنے میں تمھیں کوئی فوری فائدہ نظر نہ آتا ہو، تو تمھارا اس معاملے میں خرچ کرنے سے باز رہنا زیادہ اولیٰ ہے۔پھر فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا يَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے محروم کر لیا اور اس سے خیر کثیر فوت ہو گئی۔ وہ انفاق فی سبیل اللہ کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا بے شک اللہ تعالیٰ ﴿اللّٰهُ الۡغَنِيُّ وَاَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ﴾ ’’ بے نیاز ہے اور تم اپنے تمام اوقات اور تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا ﴾ یعنی اگر تم ایمان باللٰہ اور ان امور پر عمل کرنے سے منہ موڑ لو جن کا اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے۔ ﴿ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا يَكُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَكُمۡ﴾ ’’تو وہ تمھاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمھاری طرح کے نہیں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی میں تمھاری مانند نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِي اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدہ:5؍54) ’’اے ایمان لانے والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جاتا ہے تو عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔‘‘