پس لڑیں آپ راستے میں اللہ کے، نہیں ذمے دار بنائے گئے آپ مگر اپنی ہی ذات کے اور رغبت دلائیں مومنوں کو، امید ہے کہ اللہ روک دے لڑائی ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیااور اللہ بہت سخت ہے لڑائی میں اور بہت سخت ہے سزا (دینے) میں(84)
[84] بندۂ مومن کے احوال میں سے بہترین حال یہ ہے کہ جہاد وغیرہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں خود بھی کوشش کرے اور دوسروں کو بھی ترغیب دے۔ کبھی کبھی بندے میں کوئی ایک امر یا دونوں امور معدوم ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺسے فرمایا: ﴿ فَقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفۡسَكَ ﴾ ’’آپ اللہ کی راہ میں لڑیں۔ آپ اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ یعنی چونکہ آپ کو اپنی ذات کے سوا کسی دوسرے پر قدرت حاصل نہیں اس لیے آپ کو کسی دوسرے کے فعل کا مکلف نہیں ٹھہرایا گیا۔ ﴿ وَحَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾’’اور مومنوں کو بھی ترغیب دیں۔‘‘ یعنی اہل ا یمان کو قتال کی ترغیب دیں اور یہ ترغیب ان تمام امور کو بھی شامل ہے جس سے اہل ایمان کو نشاط، ان کے دلوں کو قوت اور ان کو طاقت حاصل ہوتی ہو۔ نیز یہ ترغیب اس بات کو بھی شامل ہے کہ دشمنوں کے ضعف اور کمزوری سے مومنوں کو آگاہ کیا جائے اور یہ ترغیب اس بات کو شامل ہے کہ مومنوں کو اس امر سے آگاہ کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کے لیے کیا ثواب تیار کر رکھا ہے اور جہاد چھوڑ کر گھر بیٹھ رہنے والوں کے لیے کیا عذاب ہے۔مذکورہ بالا اور اس قسم کے تمام امور جہاد اور قتال کی ترغیب کے زمرے میں آتے ہیں۔﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّؔكُفَّ بَاۡسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’قریب ہے کہ اللہ کافروں کی لڑائی کو بند کردے۔‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ کے راستے میں تمھارے جہاد اور جہاد کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب دینے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کفار کو روک دے۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاۡسًا ﴾ ’’اور اللہ لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ زیادہ قوت اور غلبہ والا ہے ﴿ وَّاَشَدُّ تَنۡكِيۡلًا﴾ ’’اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے۔‘‘ گناہ گار کو فی نفسہ سخت سزا دیتا ہے۔ جس سے دوسرے کو بھی عبرت ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنی قوت کے ذریعے سے ہی کفار پر غالب آجائے اور ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑے، مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے تاکہ جہاد کا بازار گرم رہے اور نفع مند ایمان حاصل ہو، یعنی اختیاری ایمان۔ نہ کہ جبری اضطراری ایمان، جو کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا۔