Tafsir As-Saadi
48:4 - 48:6

وہ، وہ ذات ہے جس نے نازل کی تسکین دلوں میں مومنوں کے تاکہ زیادہ ہوں وہ ایمان میں ساتھ اپنے ایمان کے اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے اور ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا(4)(یہ سب اس لیے کیا) تاکہ وہ داخل کرے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، اور (تاکہ) دور کرے ان سے ان کی برائیاں، اور ہے یہ اللہ کے ہاں کامیابی بہت بڑی(5) اور (تاکہ) عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو، وہ جو گمان کرنے والے ہیں ساتھ اللہ کے گمان برا ، انھی پر ہے گردش بری اور غصے ہوا اللہ ان پر اور اس نے لعنت کی انھیں اور تیار کی ان کے لیے جہنم، اور بری جگہ ہے وہ لوٹنے کی(6)

[4] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکینت نازل کی۔ سکینت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کر دینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کر دیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ ان مصائب کا سامنا کر سکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لیے مستعد رہے، پس اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل ہو۔جب رسول اللہﷺ اور مشرکوں کے مابین، صلح کی یہ شرائط طے ہوئیں، جو صحابہ کرام (y) کے لیے بظاہر ذلت آمیز اور ان کے مرتبے سے فرو تر تھیں، تو ان شرائط پر ان کے نفوس صبر کرنے کی قوت نہیں پا رہے تھے۔ پس جب انھوں نے ان شرائط کو صبر کے ساتھ قبول کر لیا اور اپنے نفوس کو ان کی قبولیت پر آمادہ کر لیا تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کے تمام لشکر، اس کی ملکیت اور اس کے دست تدبیر اور قہر کے تحت ہیں، اس لیے مشرکین یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور نبی کی مدد نہیں کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے، بنابریں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان گردش ایام ہوتی رہے اور اہل ایمان کے لیے فتح و نصرت کسی دوسرے موقع تک مؤخر رہے۔
[5]﴿لِّيُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَيُكَـفِّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ﴾ ’’تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو، بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، داخل کرے، جن میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔‘‘ یہ سب سے بڑی چیز ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہوتی ہے یعنی دخول جنت کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور گناہوں کو مٹا دینے کے ذریعے سے وہ چیز زائل ہوتی ہے جس کا انھیں خوف تھا۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ﴾ یہ مذکورہ جزا جو مومنوں کو عطا ہو گی ﴿عِنۡدَ اللّٰهِ فَوۡزًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اللہ کے ہاں بڑی کامیابی ہے۔‘‘ یہ ہے وہ فعل جو اللہ تعالیٰ اس فتح مبین میں اہل ایمان کے بارے میں سر انجام دے گا۔
[6] رہے منافقین اور منافق عورتیں، مشرکین اور مشرک عورتیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو اس فتح مبین کے ذریعے سے عذاب دے گا، انھیں ایسے ایسے امور دکھائے گا جو ان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہوں گے، چونکہ مشرکین کا مقصد یہ تھا کہ مومنین بے یارومددگار رہ جائیں، اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ برا گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور اہل باطل کو اہل حق پر غلبہ عطا کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کو الٹ دیا اور دنیا میں ہی ان پر برا وقت آ گیا۔﴿وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت رکھنے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہے ﴿وَلَعَنَهُمۡ﴾ ’’اور ان پر لعنت کی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔‘‘