اور وہ، وہ ذات ہے جس نے روکے ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے بطن مکہ میں اس کے بعد کہ کامیابی دے دی تھی اس نے تمھیں ان پر اور ہے اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا (24) وہ، وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور روکا انھوں نے تمھیں مسجد حرام سے، اور قربانی کے جانوروں کو اس حال میں کہ (جانور) روکے گئے اس سے کہ پہنچیں وہ اپنی قربان گاہ میں اور اگر نہ ہوتے (کچھ) مرد ایماندار اور (کچھ) عورتیں ایماندار (مکہ میں) کہ نہیں جانتے تم ان کو (اگر نہ ہوتا خطرہ) یہ کہ تم روند (کچل) ڈالو گے انھیں، پس پہنچے تمھیں بوجہ ان ( کے قتل) کے تکلیف، بغیر علم کے (تو ضرور اجازت دے دی جاتی تمھیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا) تاکہ داخل کرے اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے اگر جدا (الگ تھلگ) ہوتے وہ (مومن تو) ضرور عذاب دیتے ہم ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے عذاب نہایت درد ناک (25)
[24] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس نے ان کو کفار کے شر اور ان کے قتال سے عافیت میں رکھا، فرماتا ہے:﴿ وَ هُوَ الَّذِيۡ كَفَّ اَيۡدِيَهُمۡ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو روکا۔‘‘ یعنی اہل مکہ کے ﴿ عَنۡكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ عَنۡهُمۡ بِبَطۡنِ مَكَّـةَ مِنۢۡ بَعۡدِ اَنۡ اَظۡفَرَؔكُمۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تم سے اور تمھارے ہاتھوں کو ان سے ان پر تمھیں فتح دینے کے بعد۔‘‘ یعنی اس کے بعد کہ تمھیں ان پر قدرت حاصل ہو گئی اور وہ کسی عہد اور معاہدے کے بغیر تمھاری ولایت اور سرپرستی میں آ گئے اور وہ تقریباً اسی(80) آدمی تھے، جو مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تاکہ بے خبری میں ان کو آ لیں مگر انھوں نے مسلمانوں کو باخبر اور چاق چوبند پایا، مسلمانوں نے ان کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں پر رحمت تھی کہ انھوں نے ان کو قتل نہ کیا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز سے، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھتا ہے۔‘‘ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اے مومنو! اللہ تعالیٰ اپنی بہترین تدبیر کے ذریعے سے تمھاری تدبیر کرتا ہے۔
[25] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا ہے جو مشرکین کے خلاف قتال کا باعث ہیں اور وہ ہیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کا کفر کرنا، رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھی اہل ایمان کو، بیت اللہ کی زیارت کرنے، اس کی تعظیم کرنے اور حج و عمرہ کے لیے آنے سے روکنا۔ انھی لوگوں نے ﴿وَالۡهَدۡيَ مَعۡكُوۡفًا ﴾ قربانی کے جانوروں کو روکا ﴿ اَنۡ يَّبۡلُغَ مَحِلَّهٗ ﴾ ’’یہ کہ وہ اپنی قربانی کی جگہ پہنچ جائیں۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ میں ذبح کی جگہ ہے، جہاں قربانیوں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ پس انھوں نے ظلم اور تعدی کی بنا پر ان قربانیوں کو اس مقام پر پہنچنے سے روک دیا، یہ تمام امور ان کے خلاف قتال کے داعی اور موجب ہیں۔لیکن وہاں ایک اور مانع بھی ہے اور وہ ہے مشرکین کے اندر اہل ایمان مرد اور عورتوں کا موجود ہونا، ان کی موجودگی کا محل و مقام ممیز نہ تھا جہاں ان کو نقصان پہنچ جانے کا امکان تھا۔ اگر یہ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں، جن کو مسلمان نہ جانتے تھے ﴿ اَنۡ تَطَـُٔوۡهُمۡ ﴾یعنی ان کو لا علمی میں روند ڈالنے کا خدشہ نہ ہوتا ﴿فَتُصِيۡبَكُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّعَرَّةٌۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’تم کو ان کی طرف سے بے خبری میں نقصان پہنچ سکتا تھا۔‘‘ (اَلْمَعَرَّۃُ) سے مراد وہ تکلیف اور نقصان ہے، جو کفار کے ساتھ قتال کے دوران ان اہل ایمان کو بے خبری میں پہنچ سکتا تھا، اور اخروی فائدہ یہ ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں جسے داخل چاہے کرلے، اللہ تعالیٰ ان کو کفر کے بعد ایمان سے، اور گمراہی کے بعد ہدایت سے نوازتا ہے، پس اس سبب سے اللہ تعالیٰ تمھیں ان کے ساتھ قتال کرنے سے روکتا ہے۔ ﴿ لَوۡ تَزَيَّلُوۡا ﴾ اگر وہ کفار سے الگ ہو جاتے ﴿ لَعَذَّبۡنَا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’تو جو ان میں کافر تھے، ہم انھیں دردناک عذاب دیتے۔‘‘ وہ اس طرح کہ ہم تمھارے لیے ان سے جنگ کو مباح کردیتے، تمھیں ان کے خلاف لڑنے کی اجازت دے دیتے اور تمھیں ان کے خلاف نصرت سے نوازتے۔