Tafsir As-Saadi
49:1 - 49:3

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ آگے بڑھو تم اللہ اور اس کے رسول سے اور ڈرو تم اللہ سے، بلاشبہ اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بلند کرو تم اپنی آوازیں اوپر نبی کی آواز کے، اور نہ اونچی آواز میں آپ سے بات کرو مانند اونچی آواز (سے بات) کرنے کے تمھارے ایک کا دوسرے سے، کہیں برباد(نہ)ہو جائیں تمھارے عمل اور تمھیں شعور (بھی) نہ ہو(2) بلاشبہ وہ لوگ جو پست رکھتے ہیں اپنی آوازیں رسول اللہ کے پاس، یہی وہ لوگ ہیں کہ پرکھ کر خالص کر دیے اللہ نے ان کے دل تقوے کے لیے، ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے(3)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے ادب، نیز آپ کی تعظیم، احترام اور اکرام و تکریم کو متضمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان امور کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کے متقاضی ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب۔ نیز یہ کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کے مطابق چلیں اور اس کے رسول کی سنت کی اتباع کریں، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھیں، اس وقت تک کوئی بات نہ کریں جب تک کہ اللہ کا رسول بات نہ کرے، وہ کسی کام کا حکم نہ دیں جب تک کہ اللہ کا رسول حکم نہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا یہی حقیقی ادب ہے جو فرض ہے۔ یہی ادب بندے کی سعادت اور فلاح کا عنوان ہے، چنانچہ اس کے حصول میں ناکامی، سعادت ابدی اور نعیم سرمدی کے حصول میں ناکامی ہے۔اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺ کے قول پر کسی اور کے قول کو مقدم رکھنے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ جب مصطفیﷺ کی سنت مبارکہ واضح ہو کر سامنے آ جائے تو اس کی اتباع کرنا اور اس کو کسی اور کے قول اور رائے پر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، مقدم رکھنا واجب ہے۔
[1]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا عمومی حکم دیا ہے۔ اور تقویٰ کا معنی طلق بن حبیب کے قول کے مطابق، یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ثواب کے عطا ہونے کی امید رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے نور کی روشنی میں اس کی معصیت کو ترک کر دیں۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ﴾ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات اور تمام مخفی مقامات وجہات میں تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظواہر اور بواطن، گزرے ہوئے اور آنے والے امور، تمام واجبات مستحیلات اور ممکنات کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی ممانعت اور تقویٰ کا حکم دینے کے بعد، ان دو اسمائے کریمہ کا ذکر کرنے میں، ان مذکورہ اوامر حسنہ اور آداب مستحسنہ کی تعمیل کی ترغیب اور ان کے منافی امور کو اختیار کرنے پر ترہیب ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ﴾ یہ رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے میں آپ کا ادب ہے ،یعنی رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز کو آپ سے بلند کرے نہ اونچی آواز میں آپ سے گفتگو کرے، بلکہ اپنے لہجے کو پست رکھے، آپ سے نہایت ادب و ملائمت، تعظیم و تکریم اور اجلال و اعظام کے ساتھ بات کرے۔ رسول اللہﷺ ان میں سے کسی فرد جیسے نہیں ہیں۔ اس لیے آپ سے مخاطب ہونے میں آپ کے امتیاز کا خاص خیال رکھیں۔ جیسا کہ آپ اپنی امت پر اپنے حقوق، آپ پر ایمان اور آپ کے ساتھ محبت کے واجب ہونے میں امتیاز رکھتے ہیں، جس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان آداب کا لحاظ نہ رکھنے سے ڈر ہے کہ کہیں بندے کا عمل اکارت نہ جائے اور اسے شعور تک نہ ہو، جس طرح آپ کا ادب حصول ثواب اور قبولیت اعمال کا سبب ہے۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے، جو رسول اللہﷺ کی خدمت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے چن لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل تقویٰ کے لیے درست پائے، پھر اس نے ان کے ساتھ ان کے گناہوں کی بخشش کا وعدہ کیا جو ہر قسم کے شر اور ناپسندیدہ امر کے زائل ہونے اور اجر عظیم کے حصول کو متضمن ہے، جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسی میں محبوب چیز کا حصول ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ امر و نہی اور مصائب و محن کے ذریعے سے دلوں کو آزماتا ہے، پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا التزام کرتا ہے، اس کی رضا کی اتباع کرتا ہے، اس کی تعمیل کے لیے جلدی سے آگے بڑھتا ہے، اسے اپنی خواہشات نفس پر مقدم رکھتا ہے تو وہ تقویٰ کے لیے پاک صاف ہے اور اس کا قلب صحیح اور درست ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ وہ تقویٰ کے قابل نہیں۔