Tafsir As-Saadi
49:11 - 49:11

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ ٹھٹھا کرے ایک قوم (دوسری) قوم سے، شاید کہ ہوں وہ (لوگ) بہتر ان سے اور نہ عورتیں ہی (ٹھٹھا کریں دوسری) عورتوں سے، شاید کہ ہوں وہ (عورتیں) بہتر ان سے اور نہ عیب لگاؤ تم آپس میں (ایک دوسرے پر) اور نہ پکارو تم ایک دوسرے کو برے لقبوں سے برا ہے نام فسق (سے ملقب کرنا) بعد ایمان کے اور جس نے توبہ نہ کی، تو وہی (لوگ) ظالم ہیں (11)

[11] یہ بھی مومنوں کے باہمی حقوق میں شمار ہوتا ہے ﴿ لَا يَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ﴾ ’’کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے۔‘‘ یعنی کسی قسم کی گفتگو اور قول و فعل کے ذریعے سے تمسخر نہ اڑائے، جو مسلمان بھائی کی تحقیر پر دلالت کرتے ہوں۔ بے شک یہ تمسخر حرام ہے اور کسی طرح جائز نہیں نیز یہ چیز تمسخر اڑانے والے کی خود پسندی پر دلیل ہے۔ ہو سکتا ہے جس کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے وہ تمسخر اڑانے والے سے بہتر ہو اور غالب طور پر یہی ہوتا ہے۔ کیونکہ تمسخر صرف اسی شخص سے صادر ہوتا ہے جس کا قلب اخلاق بد سے لبریز ہو، جو ہر قسم کے اخلاق مذمومہ سے آراستہ اور اخلاق کریمہ سے بالکل خالی ہو۔ بنابریں نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا: ’’کسی شخص کی برائی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر جانے۔‘‘ (صحیح مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم..... حدیث: 2564) پھر فرمایا: ﴿ وَلَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ یعنی تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی عیب چینی نہ کرے۔ (اَللَّمْزُ) قول کے ذریعے سے عیب چینی کرنا۔ (اَلْھَمْزُ) فعل کے ذریعے سے عیب چینی کرنا یہ دونوں امور ممنوع اور حرام ہیں جن پر جہنم کی آگ کی وعید سنائی گئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ﴾(الہمزۃ:104؍1)’’ہلاکت ہے ہر طعن آمیز اشارے کرنے والے عیب جو کے لیے۔‘‘ مسلمان بھائی کو اپنے مسلمان بھائی کے لیے نفس سے موسوم کیا ہے کیونکہ تمام اہل ایمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ جسد واحد کی مانند ہوں، نیز جب وہ کسی دوسرے کی عیب چینی کرے تو یہ چیز اس بات کی موجب ہو گی کہ دوسرا اس کی عیب چینی کرے، لہذا وہی اس عیب چینی کا سبب بنے گا۔﴿ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ﴾ یعنی تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کسی ایسے لقب سے ملقب نہ کرے جس سے پکارا جانا وہ ناپسند کرتا ہے، اور یہی (تَنَابُزْ) ’’یعنی ایک دوسرے کو برا لقب دینا‘‘ ہے۔ رہے غیر مذموم القاب، تو وہ اس حکم میں داخل نہیں ہیں۔ ﴿ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِيۡمَانِ﴾ ’’ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے۔‘‘ یعنی کتنی بری ہے وہ چیز جو تم نے ایمان اور شریعت پر عمل کے بدلے حاصل کی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی سے اعراض کے ذریعے سے فسق و عصیان کے نام کی مقتضی ہے جو کہ تنابز بالالقاب ہے۔ ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَتُبۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔‘‘ اور یہی چیز بندے پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اپنے مسلمان بھائی سے اس کے حق کو حلال کرا کے، اس کے لیے استغفار کر کے، اور اس کی جو مذمت کی گئی ہے اس کے مقابلے میں اس کی مدح و ستائش کر کے اس کا حق ادا کرے ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَتُبۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور جس نے توبہ نہیں کی، تو وہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘ لوگوں کی دو اقسام ہیں1 اپنی جان پر ظلم کرنے والا وہ شخص جو توبہ نہیں کرتا۔ 2توبہ کر کے فوز و فلاح سے بہرہ مند ہونے والا۔ ان دو اقسام کے سوا اور کوئی قسم نہیں۔