حرام کیا گیا تم پر مردہ جانور اور خون اور گوشت سور کا اور وہ جانور کہ پکارا جائے نام غیراللہ کا اس پر اور گلا گھٹنے سے مر جانے والا اور جو مر جائے چوٹ لگنے سے اور گر کر مرنے والا اور جو کسی کے سینگ سے مر جائے اور جس کو کھا جائیں درندے مگر جس کو تم ذبح کر لو اور جو جانور ذبح کیا جائے تھانوں پراور یہ کہ قسمت معلوم کرو فال کے تیروں کے ساتھ، یہ سب گناہ (کے کام) ہیں ۔
[3] یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ارشاد جس کا اس نے اس آیت کریمہ ﴿ اِلَّا مَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ میں حوالہ دیا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام ٹھہرائی ہے وہ اپنے بندوں کی حفاظت اور ان کو اس ضرر سے بچانے کے لیے حرام قرار دی ہے جو ان محرمات میں ہوتا ہے۔ کبھی تو اللہ تعالیٰ یہ ضرر اپنے بندوں کے سامنے بیان کر دیتا ہے اور کبھی (اپنی حکمت کے تحت) اس ضرر کو بیان نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ’’مردار‘‘ کو حرام قرار دیا ہے۔ مردار سے مراد وہ مرا ہوا جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح ہوئے بغیر زندگی سے محروم ہو گیا ہو، پس اس جانور کا گوشت ضرر رساں ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور وہ ضرر ہے اس کے اندر گوشت میں خون کا رک جانا، جس کے کھانے سے نقصان پہنچتا ہے اور اکثر جانور، جو کسی بیماری کی وجہ سے جو ان کی ہلاکت کا باعث ہوتی ہے، مر جاتے ہیں ، وہ کھانے والے کے لیے نقصان کا باعث ہیں ، البتہ مری ہوئی ٹڈی اور مچھلی اس حکم سے مستثنی ہے۔ کیونکہ ان کا کھانا حلال ہے۔( یہ استثناء حدیث سے ثابت ہے، (سنن ابن ماجہ، حدیث: 3218) اسی لیے صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ حدیث کے ساتھ ہی قرآن کی تفہیم اور اس کے احکامات کی تعمیل کی تکمیل ہوتی ہے۔ (ص ۔ ی)﴿وَالدَّمُ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہتا ہوا خون۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اس کو اس صفت سے مقید بیان کیا گیا ہے ﴿ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾’’اور سور کا گوشت‘‘ اس حرمت میں اس کے تمام اجزا شامل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ناپاک درندوں میں سے خنزیر کو خاص طور پر منصوص کیا ہے کیونکہ اہل کتاب میں سے نصاریٰ دعویٰ کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خنزیر کو حلال قرار دیا ہے...، یعنی نصاریٰ سے دھوکہ نہ کھانا کیونکہ یہ خنزیر بھی حرام اور من جملہ خبائث کے ہے۔﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ ﴾ ’’اور وہ جس پر غیراللہ کا نام پکارا جائے‘‘ یعنی اس پر بتوں ، اولیاء، کواکب اور دیگر مخلوق کا نام لیا گیا ہو۔ جس طرح ذبیحہ پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا، اسے پاک کر دیتا ہے اسی طرح غیر اللہ کا نام، ذبیحہ کو معنوی طور پر ناپاک کر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ شرک ہے ﴿ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ ﴾ ’’جو جانور گلا گھٹ کر مرجائے۔‘‘ یہ وہ مرا ہوا جانور ہے جس کو ہاتھ سے، رسی سے یا کسی تنگ چیز میں اس کا سر داخل کر کے جہاں سے نکلنا ممکن نہ ہو اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا ہو۔ ﴿ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ ﴾ ’’جو چوٹ لگ کر مرجائے۔‘‘ اس مرے ہوئے جانور کو کہا جاتا ہے جو لاٹھی، پتھر یا لکڑی وغیرہ کی ضرب سے مرا ہو یا اس پر قصداً یا بغیر قصد کے دیوار وغیرہ گر گئی ہو ﴿ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ۠ ﴾ ’’جو گر کر مرجائے۔‘‘ یعنی جو بلند جگہ ، مثلاً: پہاڑ، دیوار یا چھت وغیرہ سے گر کر مر گیا ہو ﴿وَالنَّطِيۡحَةُ ﴾ اس مرے ہوئے جانور کو کہتے ہیں جسے کسی دوسرے جانور نے سینگ مار کر ہلاک کر دیا ہو ﴿ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ ﴾ جسے بھیڑیے، شیر، چیتے یا کسی شکاری پرندے وغیرہ نے پھاڑ کھایا ہو۔ اگر درندے کے پھاڑ کھانے سے جانور مر جائے تو یہ حلال نہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اِلَّا مَا ذَكَّـيۡتُمۡ ﴾ ’’مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے)ذبح کرلو۔‘‘ گلا گھٹ کر مرنے والے، چوٹ لگ کر مرنے والے، بلندی سے گر کر مرنے والے اور درندے کے پھاڑ کھانے سے مرنے والے جانور کی طرف راجع ہے۔ اگر اس جانور میں پوری طرح زندگی موجود ہو اور اسے ذبح کر لیا جائے تو یہ جانور شرعی طور پر مذبوح ہے۔ بنابریں فقہاء کہتے ہیں ’’اگر کسی درندے وغیرہ نے کسی جانور کو چیر پھاڑ کر اس کی آنتیں اور دیگر اندرونی اعضا کو باہر نکال کر علیحدہ علیحدہ کر دیا ہو یا اس کا حلقوم کاٹ دیا ہو تو اس میں زندگی کا وجود اور عدم وجود مساوی ہیں ۔ کیونکہ اب اس کو ذبح کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘بعض فقہاء اس میں صرف زندگی کے وجود کا اعتبار کرتے ہیں ۔ اگر اس جانور میں بھی زندگی کا وجود ہو اور اس حالت میں اس کو ذبح کر لیا جائے تو وہ حلال ہے خواہ اس کا اندرونی حصہ بکھیر ہی کیوں نہ دیا گیا ہو۔ آیت کریمہ کا ظاہر اسی پر دلالت کرتا ہے۔﴿ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ﴾ ’’اور یہ کہ پانسوں کے ذریعے سے قسمت معلوم کرو۔‘‘ یعنی تمھیں تیروں کے ذریعے سے قسمت کا حال معلوم کرنے سے منع کر دیا گیا۔ استسقام کے معنی یہ ہیں کہ جو تمھارے مقسوم اور مقدر میں ہے اسے طلب کرنا۔ جاہلیت کے زمانے میں تین تیر ہوتے تھے جن کو اس کام کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جن میں سے ایک پر لکھا ہوتا تھا کہ ’’یہ کام کر‘‘ دوسرے پر لکھا ہوتا تھا ’’یہ کام نہ کر‘‘ اور تیسرا تیر خالی ہوتا تھا۔ جب کوئی شخص کسی سفر پر روانہ ہونے لگتا یا شادی وغیرہ کرتا تو تینوں تیر کسی ڈونگی وغیرہ میں رکھ کر گھماتے پھر ان میں سے ایک تیر نکال لیتے اگر اس پر لکھا ہوتا ’’یہ کام کر‘‘ تو وہ یہ کام کر لیتا اور اگر لکھا ہوتا ’’یہ کام نہ کر‘‘ تو وہ اس کام میں ہاتھ نہ ڈالتا۔ اگر وہ تیر نکل آتا جس پر کچھ بھی نہ لکھا ہوتا تو وہ اس عمل کا اعادہ کرتا یہاں تک کہ لکھا ہوا تیر نکل آتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اس عمل کو اس صورت میں یا اس سے مشابہ صورت میں حرام قرار دے دیا اور اس کے عوض ان کو تمام امور میں اپنے رب سے استخارہ کرنے کا حکم دیا (جیسا کہ حدیث نبوی سے استخارے کی تاکید ہے۔ جامع الترمذي، حدیث: ۴۸۰)﴿ ذٰلِكُمۡ فِسۡقٌ ﴾ ’’یہ سب گناہ (کے کام) ہیں ۔‘‘ یہ ان تمام محرمات کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ یہ تمام محرمات فسق ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل کر شیطان کی اطاعت میں داخل ہونا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان جتلاتے ہوئے فرماتا ہے: آج ناامید ہوگئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تمھارے دین سے پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ ہی سے۔ آج مکمل کر دیا میں نے تمھارے لیے تمھارا دین اور پوری کر دی تم پر اپنی نعمت اور پسند کر لیا تمھارے لیے اسلام کو بطور دین کے۔ پس جو لاچار ہو جائے بھوک میں نہ مائل ہونے والا ہو گناہ پر تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے(3)[3] وہ دن جس کی طرف آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے وہ عرفہ کا دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو مکمل فرمایا، اپنے بندے اور رسولﷺ کی مدد کی اور اہل شرک پوری طرح بے یارو مددگار ہو گئے، حالانکہ وہ اس سے پہلے اہل ایمان کو ان کے دین سے پھیرنے کی بہت خواہش رکھتے تھے۔ جب انھوں نے اسلام کا غلبہ، اس کی فتح اور بالادستی دیکھی تو اہل ایمان کو دین سے پھیرنے سے پوری طرح مایوس ہو گئے اور اب ان کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ وہ اہل ایمان سے خوف کھانے لگے۔ بنابریں ، اس سال یعنی ۱۰ ھ میں جب رسول اللہﷺ نے آخری حج کیا تو اس حج میں کسی مشرک نے حج نہیں کیا اور نہ کسی نے عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِ ﴾’’تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی مشرکین سے نہ ڈرو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس نے مشرکین کے مقابلے میں تمھاری مدد فرمائی اور ان کو تنہا چھوڑ دیا اور ان کے مکرو فریب اور ان کی سازشیں ان کے سینوں ہی میں لوٹا دیں ۔﴿ اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِيۡنَؔكُمۡ ﴾ ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کر دیا‘‘ یعنی اپنی نصرت کا اتمام کر کے اور ظاہری و باطنی طور پر اور اصول و فروع میں شریعت کی تکمیل فرما کر۔ اسی لیے احکام دین، یعنی اس کے تمام اصول و فروع میں کتاب و سنت کافی ہیں ۔ اگر تکلف کا شکار کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لوگ عقائد اور احکام دین کی معرفت کے لیے کتاب و سنت کے علم کے علاوہ دیگر علوم ، مثلاً:علم کلام وغیرہ کے محتاج ہیں تو وہ جاہل اور اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے گویا وہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ دین کی تکمیل اس کے اقوال اور ان نظریات کے ذریعے سے ہوئی ہے جس کی طرف وہ دعوت دیتا ہے اور یہ سب سے بڑا ظلم اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو جاہل قرار دینا ہے۔﴿ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِيۡ ﴾ ’’میں نے تم پر اپنی (ظاہری اور باطنی) نعمت پوری کر دی ﴿ وَرَضِيۡتُ لَكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا ﴾’’اور میں نے تمھارے لیے اسلام کو دین کے طورپر پسند کرلیا۔‘‘ یعنی میں نے اسلام کو تمھارے لیے دین کے طور پر اور تمھیں اسلام کے لیے چن لیا ہے۔ اب اپنے رب کی شکر گزاری کے لیے اس دین کو قائم کرو اور اس ہستی کی حمد و ستائش کرو جس نے تمھیں بہترین، عالی شان اور کامل ترین دین سے نواز کر تم پر احسان فرمایا۔﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس جو شخص ناچار ہوجائے۔‘‘ یعنی جسے ضرورت ان محرمات میں سے کچھ کھانے پر مجبور کر دے جن کا ذکر ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ﴾کے تحت گزر چکا ہے ﴿ فِيۡ مَخۡمَصَةٍ ﴾ ’’بھوک کی وجہ سے‘‘ یعنی اگر وہ سخت بھوکا ہو ﴿ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ ﴾ ’’ گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔‘‘ بایں طور کہ وہ ان محرمات کو اس وقت تک نہ کھائے جب تک کہ وہ اضطراری حالت میں نہ ہو اور ضرورت سے بڑھ کر نہ کھائے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے کہ اس نے بندے کے لیے اس اضطراری حال میں محرمات کو کھانا جائز قرار دے دیا۔ اور اس کی نیت کے مطابق اور دین میں کوئی نقص لاحق کیے بغیر اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرمایا۔