اور البتہ تحقیق لیا اللہ نے عہد بنی اسرائیل سے اور مقرر کیے ہم نے ان میں سے بارہ سردار اور کہا اللہ نے، بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں ، ، البتہ اگر قائم رکھو گے تم نماز اور ادا کرو گے زکاۃ اور ایمان لاؤ گے ساتھ میرے رسولوں کے اور تقویت پہنچاؤ گے ان کو اور قرض دو گے تم اللہ کو قرض حسن تو ضرور دور کر دوں گا میں تم سے تمھاری برائیاں اور ضرور داخل کروں گا تمھیں ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، پس جس نے کفر کیا بعد اس کے تم میں سے تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(12) پس بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو، لعنت کی ہم نے ان پر اور کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو سخت، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو ان کی جگہوں سے اور بھول گئے وہ ایک حصہ اس چیز سے کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے اور ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں آپ خیانت پر ان کی مگر تھوڑے لوگ ان میں سے، پس معاف کر دیں آپ ان کو اور درگزر کریں ، بے شک اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(13)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بہت موکد اور بھاری عہد لیا، پھر اس میثاق اور عہد کا وصف بیان فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کو کیا اجر ملے گا اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان کو کیا سزا ملے گی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کو اس کی پاداش میں کیا سزا ملی۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔‘‘ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے مضبوط اور موکد عہد لیا ﴿وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا﴾ ہم نے ان کے بارہ سردار مقرر کر دیے جو ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے اور جن باتوں کا انھیں حکم دیا جاتا تھا اس کی تعمیل کرنے پر انھیں آمادہ کرتے تھے۔ ﴿وَقَالَ اللّٰهُ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نقیبوں (سرداروں ) سے فرمایا جنھوں نے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا تھا ﴿ااِنِّيۡ مَعَكُمۡ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ یعنی میری اعانت و نصرت تمھارے ساتھ ہے۔ کیونکہ مدد ہمیشہ ذمہ داری کے بوجھ کے مطابق ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جن پر عہد لیا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ اَقَمۡتُمُ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اگر تم نماز پڑھتے رہو گے۔‘‘ یعنی اگر تم نماز کو اس کے ظاہری اور باطنی لوازم کے ساتھ قائم کرو اور پھر اس پر دوام اختیار کرو گے ﴿وَاٰتَيۡتُمُ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ دیتے رہو گے۔‘‘ یعنی مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دو گے ﴿وَاٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِيۡ ﴾ ’’اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے۔‘‘ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لاؤ گے، جن میں سب سے افضل اور سب سے اکمل جناب محمد مصطفیﷺ ہیں ﴿وَعَزَّرۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی مدد کروگے۔‘‘ یعنی اگر تم انبیاء کی تعظیم اور ان کی اطاعت اور ان کا احترام کرو گے جو تم پر واجب ہے ﴿وَاَقۡرَضۡتُمُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾ ’’اور تم اللہ کو قرض حسن دو گے‘‘ یعنی صدقہ دو گے اور بھلائی کرو گے جس کا مصدر صدق و اخلاص اور کسب حلال ہو۔جب تم مذکورہ بالا تمام امور قائم کر لو گے ﴿لَّاُكَفِّرَنَّ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’تو میں تم سے تمھاری برائیاں دور کر دوں گا اور تمھیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی‘‘ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت میں اپنی نعمتوں اور محبوب امور کے حصول اور گناہوں کی تکفیر اور اس پر مرتب ہونے والی سزا کو دور کر کے ناپسندیدہ امور کے دور ہٹنے کو یکجا بیان فرمایا۔﴿فَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر جس نے اس کے بعد کفر کیا۔‘‘ یعنی جو کوئی اس عہد و میثاق کے بعد جسے ایمان اور ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے موکد کیا گیا ہے۔ کفر کا رویہ اختیار کرتا ہے ﴿فَقَدۡ ضَلَّ سَوَؔآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ یعنی وہ جان بوجھ کر سیدھے راستے سے بھٹکتا ہے تو وہ اسی سزا کا مستحق ہو گا، جس کے مستحق گمراہ لوگ ہوں گے، جیسے ثواب سے محرومی اور عذاب سے دوچار ہونا۔
[13] گویا یوں کہا گیا ہے کہ ’’ کاش ہمیں بھی معلوم ہو تا کہ انھوں نے کیا کیا؟ کیا انھوں نے اس عہد کو پورا کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا یا اس عہد کو توڑ دیا؟‘‘ پس اللہ نے واضح کر دیا کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ کیے گئے اس عہد کو توڑ دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَبِمَا نَقۡضِهِمۡ مِّؔيۡثَاقَهُمۡ ﴾’’تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب۔‘‘ یعنی ان کے نقض عہد کے سبب سے ہم نے ان کو متعدد سزائیں دیں ۔(۱)﴿لَعَنّٰهُمۡ ﴾’’ہم نے ان پر لعنت کی۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو دھتکار کر اپنی رحمت سے دور کر دیا کیونکہ انھوں نے اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بند کر لیے اور انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔(۲)﴿وَجَعَلۡنَا قُلُوۡبَهُمۡ قٰسِيَةً﴾’’اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو پتھر دل بنا دیا، پس وعظ و نصیحت ان کے کسی کام آ سکتے ہیں نہ آیات اور نہ ہی برے انجام سے ڈرانے والے انھیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ کوئی شوق انھیں ترغیب دے سکتا ہے نہ کوئی خوف ان کو یہ عہد پورا کرنے کے لیے بے قرار کر سکتا ہے۔ بندے کے لیے یہ سب سے بڑی سزا ہے کہ اس کے دل کی یہ کیفیت ہو جائے کہ ہدایت اور بھلائی بھی اس پر برا اثر کریں ۔(۳)﴿يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ﴾ ’’یہ لوگ کلمات (کتاب)کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کلام اللہ میں تغیر و تبدل کے بھی مرتکب ہوئے، چنانچہ انھوں نے کلام الٰہی کے اس معنی کو، جو اللہ تعالیٰ کی مراد تھا، بدل کر وہ معنی بنا دیا جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ تھا۔(۴)﴿وَنَسُوۡا حَظًّا مِّؔمَّؔا ذُكِّرُوۡا بِهٖ﴾’’اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔‘‘ انھیں تورات اور ان تعلیمات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی جو موسیٰu پر نازل کی گئی تھیں مگر انھوں نے ان کو فراموش کر دیا۔ یہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ انھوں نے جناب موسیٰu کے علم کو فراموش کر دیا بنابریں علم ان سے ضائع ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ بہت سا علم ناپید ہو گیا۔ یہ آیت کریمہ نسیان عمل کو بھی شامل ہے جو ترک عمل کا نتیجہ ہے، پس جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا تھا اس پر عمل کرنے کی ان کو توفیق نہ ہوئی۔اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے بعض ان امور کا جو انکار کیا جن کا ذکر ان کی کتابوں میں ہے یا ان کے زمانے میں واقع ہوئے، یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن کو انھوں نے فراموش کیا۔(۵) دائمی خیانت، جس کے بارے میں فرمایا:﴿وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىِٕنَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان کی خیانت پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیانت۔ اور ان کی سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ انھوں نے ان لوگوں سے حق کو چھپایا جو ان کو نصیحت کرتے تھے اور ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے تھے ۔ اور ان کو ان کے کفر پر باقی رکھنا۔ پس یہ بہت بڑی خیانت ہے۔ اور جو کوئی ان صفات سے متصف ہوتا ہے اس میں یہ مذموم خصائل پائے جاتے ہیں ۔پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور ان کا التزام نہیں کرتا تو اس لعنت، قساوت قلبی اور کلام الٰہی کی تحریف میں وہ بھی حصہ دار ہوتا ہے۔ اس کو بھی حق اور صواب کی توفیق نہیں ملتی وہ بھی ان امور کو فراموش کرنے کا مرتکب ہوتا ہے جن کی اسے یاد دہانی کروائی گئی تھی اور ایسے شخص کا خیانت میں مبتلا ہونا بھی یقینی ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلب گار ہیں ۔جس امر کی انھیں یاد دہانی کروائی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو﴿حَظًّا ﴾ ’’حصہ، نصیبہ‘‘ کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا حظ ہے اس کے علاوہ دیگر تمام حظوظ دنیاوی حظوظ ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَخَرَ جَ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(القصص: 28؍79) ’’قارون بڑی سج دھج کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے طالب تھے، کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ دیا گیا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ وہ تو بہت بڑے نصیبے والا ہے۔‘‘ اور حظ نافع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(حم السجدۃ: 41؍35)’’یہ بات صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس سے وہی لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو بہت بڑے نصیبے والے ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’تھوڑے آدمیوں کے سوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ بہت کم تھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے پورا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق سے نوازا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کی ﴿فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاصۡفَحۡ﴾ ’’پس آپ ان کی خطائیں معاف کردیں اور ان سے درگزر فرمائیں ۔‘‘ ان کی طرف سے آپ کو جو بھی کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو معاف کر دینے کے قابل ہو اسے معاف کر دیا کریں ۔ اور ان سے درگزر کیجیے کیونکہ یہ بھلائی ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ اور احسان یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اپنے آپ میں یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ تو تجھے دیکھ رہا ہے اور مخلوق کے حق میں احسان یہ ہے کہ تو انھیں دینی اور دنیاوی فائدے سے نوازے۔