اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب ارادہ کیا تھا ایک قوم نے کہ دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ تو روک دیے اس نے ان کے ہاتھ تم سےاور ڈرو اللہ سے اور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ توکل کریں ایمان والے(11)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے اور انھیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ بھی دل و زبان سے ان نعمتوں کا ذکر کیا کریں ۔ جس طرح وہ اپنے دشمنوں کے قتل، ان کے مال کو مال غنیمت بنانے، ان کے شہروں کو فتح کرنے اور ان کے غلام بنانے کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیتے ہیں اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھی اعتراف کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھارے ساتھ لڑنے سے روکا اور ان کی سازشوں اور چالوں کو جو ان کے سینوں میں تھیں ، انھی پر لوٹا دیا۔ اس لیے کہ دشمنوں نے ایک سازش تیار کی اور ان کا گمان تھا کہ وہ اسے بروئے کار لانے میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جب وہ مومنوں کے خلاف اس سازش میں کامیاب نہیں ہوئے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی مدد ہے۔ اس لیے ان کو چاہیے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ، اس کی عبادت اور اس کا ذکر کریں ۔ کافر، منافقین اور باغیوں میں سے جن لوگوں نے بھی اہل ایمان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا، یہ آیت کریمہ ان سب کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کرنے اور دیگر تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں ، اس لیے فرمایا:﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول میں اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور اعتماد کریں ، اپنی قوت اور طاقت پر بھروسہ نہ کریں اور اپنے محبوب امور کے حصول میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور بندے کے ایمان کے مطابق ہی، اس کا اللہ پر توکل ہوتا ہے اور یہ دل کے ان واجبات میں سے ہے جن پر اتفاق ہے۔