اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)
[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ کو ایسے معانی پہناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے پس لوگ گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے پیچھے چلتے ہیں اور محال کی پیروی کرتے ہیں جو تمام تر جھوٹ ہی لے کر آتے ہیں جو عقل سے محروم اور عزم و ہمت سے تہی دست ہیں ۔ اگر وہ آپ کی اتباع نہیں کرتے تو پروا نہ کیجیے کیونکہ وہ انتہائی ناقص ہیں اور ناقص کی پروا نہیں کی جاتی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِيۡتُمۡ هٰؔذَا فَخُذُوۡهُ وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡهُ فَاحۡذَرُوۡا ﴾ ’’کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا‘‘ یعنی یہ بات وہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ فیصلہ کروانے کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں ۔ خواہشات نفس کی پیروی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ’’اگر محمد (ﷺ)تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس فیصلے میں اس کی پیروی سے بچو۔‘‘ یہ نقطہ نظر فتنہ اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔﴿ وَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتۡنَتَهٗ فَلَنۡ تَمۡلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کر سکتے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد اس قول کی مانند ہے ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾(القصص: 28؍56) ’’آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔‘‘﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يُّطَهِّرَ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾’’یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے‘‘ یعنی پس ان سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے صادر ہو رہا ہے۔ ان کا یہ رویہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی خواہش نفس کی اتباع کی خاطر شریعت کے مطابق فیصلہ کرواتا ہے اگر فیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہو جاتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو ناراض ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز اس کے قلب کی عدم طہارت میں سے ہے۔ جیسے وہ شخص ہے جو اپنا فیصلہ شریعت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا مخالف تو یہ اس کی طہارت قلب میں سے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طہارت قلب ہر بھلائی کا سبب ہے اور طہارت قلب رشد و ہدایت اور عمل سدید کا سب سے بڑا داعی ہے۔﴿ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں ان کے لیے فضیحت اور عار ہے ﴿ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور آخرت میں عذاب عظیم ہے‘‘ عذاب عظیم سے مراد جہنم اور اللہ جبار کی ناراضی ہے۔
[42]﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ ﴾ ’’جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے‘‘ یہاں سننے سے مراد اطاعت کے لیے سننا ہے یعنی وہ قلت دین اور قلت عقل کی بنا پر ہر اس شخص کی بات پر لبیک کہتے ہیں جو انھیں جھوٹ کی طرف دعوت دیتاہے ﴿ اَكّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ﴾ ’’کھانے والے ہیں حرام کے‘‘ یعنی اپنے عوام اور گھٹیا لوگوں سے ناحق وظائف لے کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ پس انھوں نے اپنے اندر جھوٹ کی پیروی اور اکل حرام کو یکجا کر لیا ﴿ فَاِنۡ جَآءُوۡكَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اگر یہ آپ کے پاس (کوئی فیصلہ کرانے کو) آئیں تو آپ ان میں فیصلہ کردیں یا اعراض کریں ۔‘‘ یعنی آپ کو اس بارے میں اختیار ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرما لیں ۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں ، جو فیصلہ کروانے کے لیے آپﷺ کے پاس آئیں آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا فیصلہ کرنے سے گریز کریں ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ صرف اسی وقت شریعت کے مطابق فیصلہ کروانے کا قصد کرتے ہیں جب فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہو۔ بنابریں فتویٰ طلب کرنے والے اور کسی عالم کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے جانے والے کے احوال کی تحقیق کی جائے اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر راضی نہ ہو گا تو اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا واجب ہے نہ فتویٰ دینا۔ تاہم اگر وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَنۡ يَّضُرُّوۡكَ شَيۡـًٔـا١ؕ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں ، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ حتی کہ... خواہ لوگ ظالم اور دشمن ہی کیوں نہ ہوں تب بھی ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو۔یہ آیت کریمہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔
[43] پھر ان پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَؔكَيۡفَ يُحَكِّمُوۡنَكَ وَعِنۡدَهُمُ التَّوۡرٰىةُ … بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور وہ کس طرح آپ کو منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر اس کے بعد وہ پھر جاتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘‘ اس لیے کہ اگر وہ مومن ہوتے اور ایمان کے تقاضے اور اس کے موجبات پر عمل کرتے تو اللہ کے اس حکم سے اعراض نہ کرتے جو تورات میں موجود ہے اور جو ان کے سامنے ہے۔ (لیکن اس سے اعراض کر کے جو آپ کے پاس آئے ہیں تو اس امید پر کہ) شاید جو کچھ آپ کے پاس ہے ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق فیصلہ کر دیا جو ان کے پاس ہے۔ تو وہ نہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اس سے روگردانی کی اور اس کو ناپسند کیا۔ ﴿ وَمَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے یہ اعمال ہیں وہ مومن نہیں ، یعنی یہ اہل ایمان کا رویہ نہیں اور نہ یہ لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور احکام ایمان کو اپنی خواہشات کے تابع کر رکھا ہے۔
[44]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’بے شک ہم نے تورات نازل فرمائی۔‘‘ یعنی ہم نے موسیٰ بن عمرانu پر تورات نازل کی ﴿ فِيۡهَا هُدًى ﴾ ’’جس میں ہدایت ہے۔‘‘ یعنی تورات ایمان اور حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے ﴿ وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اور روشنی ہے۔‘‘ یعنی ظلم و جہالت، شک و حیرت اور شبہات و شہوات کی تاریکیوں میں اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ الۡفُرۡقَانَ وَضِيَآءً وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍48) ’’اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں فرق کرنے والی، روشنی عطا کرنے والی اور اہل تقویٰ کو نصیحت کرنے والی کتاب عطا کی۔‘‘ ﴿يَحۡكُمُ بِهَا ﴾ ’’فیصلہ کرتے تھے اس کے ساتھ‘‘ یعنی یہودیوں کے جھگڑوں اور ان کے فتاویٰ میں ﴿ النَّبِيُّوۡنَ الَّذِيۡنَ اَسۡلَمُوۡا ﴾’’پیغمبر جو فرماں بردار تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیا، اس کے احکامات کی اطاعت کی اور ان کا اسلام دیگر لوگوں کے اسلام سے زیادہ عظیم تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے تھے۔جب یہ انبیائے کرام جو مخلوق کے سردار ہیں تورات کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چلتے ہیں تو یہودیوں کے ان رذیل لوگوں کو اس کی پیروی کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ اور ان پر کس چیز نے واجب کیا ہے کہ وہ تورات کے بہترین حصے کو نظر انداز کر دیں جس میں حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس عقیدے کو قبول کیے بغیر کوئی ظاہری اور باطنی عمل قابل قبول نہیں ۔ کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی راہنمائی ہے؟ ہاں ! ان کی راہنمائی کرنے والے راہنما موجود ہیں جو تحریف کرنے، لوگوں کے درمیان اپنی سرداری اور مناصب قائم رکھنے، کتمان حق کے ذریعے سے حرام مال کھانے اور اظہار باطل کے عادی ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔﴿ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ ﴾ ’’درویش اور عالم‘‘ یعنی اسی طرح یہودیوں کے ائمہ دین میں ربانی تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ (رَبَّانِیُّون) سے مراد باعمل علماء ہیں جو لوگوں کی بہترین تربیت کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا وہی مشفقانہ رویہ تھا جو انبیاء کرام کا ہوتا ہے (اَحْبَار) سے مراد وہ علمائے کبار ہیں جن کے قول کی اتباع کی جاتی ہے اور جن کے آثار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور وہ اپنی قوم میں اچھی شہرت رکھتے ہیں ۔ان کی طرف سے صادر ہونے والا یہ فیصلہ حق کے مطابق ہے ﴿ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ كِتٰبِ اللّٰهِ وَؔكَانُوۡا عَلَيۡهِ شُهَدَآءَؔ ﴾ ’’اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور وہ اس کی خبر گیری پر مقرر تھے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی تھی، ان کو اپنی کتاب کا امین بنایا تھا اور یہ کتاب ان کے پاس امانت تھی اور اس میں کمی بیشی اور کتمان سے اس کی حفاظت کو اور بے علم لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کو ان پر واجب قرار دیا تھا... وہ اس کتاب پر گواہ ہیں کیونکہ وہی اس کتاب میں مندرج احکام کے بارے میں اور اس کی بابت لوگوں کے درمیان مشتبہ امور میں ان کے لیے مرجع ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل علم پر وہ ذمہ داری ڈالی ہے جو جہلا پر نہیں ڈالی اس لیے جس ذمہ داری کا بوجھ ان پر ڈالا گیا ہے، احسن طریقے سے اس کو نبھانا ان پر واجب ہے اور یہ کہ بیکاری اور کسل مندی کو عادت بناتے ہوئے جہال کی پیروی نہ کریں ۔ نیز وہ مختلف انواع کے اذکار، نماز، زکٰوۃ ، حج ، روزہ وغیرہ مجرد عبادات ہی پر اقتصار نہ کریں جن کو قائم کر کے غیر اہل علم نجات پاتے ہیں ۔ اہل علم سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور انھیں ان دینی امور سے آگاہ کریں جن کے وہ محتاج ہیں ۔ خاص طور پر اصولی امور اور ایسے معاملات جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں نیز یہ کہ وہ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈریں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ فَلَا تَخۡشَوُا النَّاسَ وَاخۡشَوۡنِ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِيۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾’’پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو! اور میری آیات کے بدلے تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرو‘‘ یعنی دنیا کی متاع قلیل کی خاطر حق کو چھپا کر باطل کا اظہار نہ کرو۔اگر صاحب علم ان آفات سے محفوظ ہو جاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سعادت اس امر میں ہے کہ علم و تعلیم میں جدوجہد اس کا مقصد رہے۔ یہ چیز ہمیشہ اس کے علم میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی امانت اس کے سپرد کر کے اس کی حفاظت اس کے ذمہ عائد کی ہے اور اس کو اس علم پر گواہ بنایا ہے۔ وہ صرف اپنے رب سے ڈرے، لوگوں کا ڈر اور خوف اسے لوازم علم کو قائم کرنے سے مانع نہ ہو۔ دین پر دنیا کو ترجیح نہ دے۔ اسی طرح کسی عالم کی بدبختی یہ ہے کہ وہ بے کاری کو اپنی عادت بنا لے اور جن چیزوں کا اسے حکم دیا گیا ہے ان کو قائم نہ کرے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اسے پورا نہ کرے۔ ایسے شخص نے علم کو بے کار اور ضائع کر دیا، دنیا کے بدلے دین کو فروخت کر ڈالا، اس کے فیصلوں میں رشوت لی اس کے فتووں میں مال سمیٹا اور اللہ کے بندوں کو اجرت لے کر علم سکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس کی اس نے ناشکری کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم نعمت عطا کی تھی، اس نے اس نعمت سے دوسروں کو محروم کر دیا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل مقبول کا سوال کرتے ہیں ۔ اے الٰہ کریم ہمیں ہر مصیبت سے عفو اور عافیت عطا کر۔﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے۔‘‘ یعنی جو کوئی واضح حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اپنی فاسد اغراض کی خاطر جان بوجھ کر باطل کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا اہل کفر کا شیوہ ہے۔ اور بسا اوقات یہ ایسا کفر بن جاتا ہے جو اپنے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جائز اور صحیح سمجھتا ہے۔