تمھارے دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، جو قائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور وہ رکوع کرنے والے ہیں (55) اور جو کوئی دوستی رکھے گا اللہ اور اس کے رسول سے اور ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو یقینا گروہ اللہ کا، وہی ہے غالب آنے والا(56)
[55] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار کی دوستی سے روکا اور ذکر فرمایا کہ ان کی دوستی کا انجام واضح خسارہ ہے۔ جس کی دوستی متعین اور واجب ہے، اب اس کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اس کے فائدے اور مصلحت کا ذکر کیا ہے ﴿ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’تمھارا دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول ہی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی) ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے۔ جو کوئی صاحب ایمان اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی یعنی دوست ہے اور جو اللہ کا دوست ہے وہ اس کے رسولﷺ کا دوست ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو دوست بناتا ہے تو اس دوستی کی تکمیل یہ ہے کہ اللہ جن کو دوست بناتا ہے یہ بھی انھی کو دوست بنائے۔ اور وہ ہیں اہل ایمان جو ایمان کے ظاہری اور باطنی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور معبود کے لیے دین کو خالص کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کی تمام شرائط و فرائض اور اس کو مکمل کرنے والے امور کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، مخلوق کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے ہیں اور اپنے اموال میں سے اپنے میں سے مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دیتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ رٰؔكِعُوۡنَ﴾ ’’اور (اللہ کے آگے) جھکتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے خضوع اور تذلل اختیار کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا ﴾ میں حصر کا اسلوب دلالت کرتا ہے کہ ان مذکور لوگوں کی دوستی پر اقتصار کرنااور ان کے علاوہ دیگر لوگوں سے براء ت کا اظہار کرنا ضروری ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس دوستی کا فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾ ’’اور جو اللہ سے، اس کے رسول سے اور ایمان والوں سے دوستی رکھتا ہے تو بے شک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے‘‘ یعنی وہ اس گروہ میں شمار ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عبودیت اور ولایت کی اضافت رکھتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا حزب غالب ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کا انجام دنیا و آخرت میں اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(الصافات: 36؍173) ’’بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔‘‘ یہ اس شخص کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کر کے اس کے گروہ اور لشکر میں شامل ہو جاتا ہے کہ غلبہ اسی کے لیے ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت وہ مغلوب بھی ہو جاتا ہے مگر انجام کار فتح و غلبہ سے وہی بہرہ ور ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا کون ہے۔