Tafsir As-Saadi
5:48 - 5:50

اور نازل کی ہم نے طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی کتاب اور نگہبان اوپر اس کے، پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی، نظر انداز کرکے اس کو جو آیا آپ کے پاس حق، ہر ایک کے لیے کیا ہم نے تم میں سے ایک دستور اور طریقہ اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ کر دیتا تم کو امت ایک لیکن تاکہ آزمائے تمھیں اس (کتاب) میں جو دی اس نے تمھیں ، پس سبقت کرو تم نیکیوں میں ، طرف اللہ ہی کی لوٹنا ہے تم سب کا، پھر وہ خبر دے گا تمھیں اس کی بابت کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(48) اور یہ کہ فیصلہ کریں آپ ان کے درمیان ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نےاور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور ڈریں ان سے کہ وہ بہکانہ دیں آپ کو کسی ایسی بات سے جو نازل کی اللہ نے آپ کی طرف۔ پس اگر وہ روگردانی کریں تو جان لیں کہ بے شک اللہ یہی ارادہ کرتا ہے کہ پہنچائے ان کو سزا بہ سبب ان کے بعض گناہوں کے اور بے شک اکثر لوگوں میں سے ، البتہ نافرمان ہیں (49) کیا پس جاہلیت کا فیصلہ وہ چاہتے ہیں ؟ اور کون زیادہ اچھا ہے اللہ سے فیصلہ کرنے میں ، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے(50)

[48]﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب‘‘ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’حق کے ساتھ‘‘ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامر و نواہی میں حق پر مشتمل ہے ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق، اس کے بڑے بڑے قوانین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے ﴿ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور ان کے مضامین پر نگہبان ہے‘‘ یعنی یہ کتاب ان امور پر مشتمل ہے جن امور پر سابقہ کتب مشتمل تھیں ۔ نیز مطالب الہٰیہ اور اخلاق نفسیہ میں بعض اضافے ہیں ۔یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان کتابوں میں آ چکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہے اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت ، دانائی اور احکام ہیں جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردود ہے کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہو چکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی۔ ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’پس ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپﷺ پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کیجیے ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ عَمَّؔا جَآءَكَ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور آپ کے پاس جو حق آیا، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ‘‘ یعنی ان کی حق کے خلاف خواہشات فاسدہ کی اتباع کو اس حق کا بدل نہ بنائیں جو آپﷺ کے پاس آچکا ہے، ورنہ آپ اعلیٰ کے بدلے ادنیٰ کو لیں گے۔ ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کو دیا ہم نے‘‘ یعنی اے قومو! ﴿ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا ﴾’’ایک دستور اور راہ‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ شریعتیں جو امتوں کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتی رہی ہیں ، زمان و مکان اور احوال کے تغیر و تبدل کے مطابق ان شرائع میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہا ہے اور ہر شریعت اپنے تشریع کے وقت عدل کی طرف راجع ہے۔ مگر بڑے بڑے اصول جو ہر زمان و مکان میں مصلحت اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے، وہ تمام شرائع میں مشروع ہوتے ہیں ۔﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا‘‘ یعنی ایک شریعت کی پیروی میں ایک امت بنا دیتا کسی متقدم اور متاخر امت میں کوئی اختلاف نہ ہوتا ﴿ وَّلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’لیکن وہ تمھیں آزمانا چاہتا ہے اپنے دیے ہوئے حکموں میں ‘‘ پس وہ تمھیں آزمائے اور دیکھے کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہر قوم کو آزماتا ہے اور ہر قوم کو اس کے احوال اور شان کے لائق عطا کرتا ہے تاکہ قوموں کے درمیان مقابلہ رہے۔ پس ہر قوم دوسری قوم سے آگے بڑھنے کی خواہش مند ہوتی ہے اس لیے فرمایا: ﴿ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’نیک کاموں میں جلدی کرو۔‘‘ یعنی نیکیوں کے حصول کے لیے جلدی سے آگے بڑھو اور ان کی تکمیل کرو۔ کیونکہ وہ نیکیاں جو فرائض و مستحبات، حقوق اللہ اور حقوق العباد پر مشتمل ہوتی ہیں ، ان کا فاعل ان دو امور کو مدنظر رکھے بغیر کسی سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (۱) جب نیکی کرنے کا وقت آ جائے اور اس کا سبب ظاہر ہو جائے تو فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے جلدی سے اس کی طرف بڑھنا۔ (۲)اور حکم کے مطابق اسے کامل طور پر ادا کرنے کی کوشش کرنا۔اس آیت کریمہ سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ نماز کو اول وقت پڑھنے کی کوشش کی جائے۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ بندے کو صرف نماز وغیرہ اور دیگر امور واجبہ کی ادائیگی پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ مقدور بھر مستحبات پر بھی عمل کرے تاکہ واجبات کی تکمیل ہو اور ان کے ذریعے سے سبقت حاصل ہو۔﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’تم سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے‘‘ تمام امم سابقہ ولاحقہ نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’پس وہ تمھیں ان امور کی بابت خبر دے گا جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے تھے‘‘ یعنی جن شرائع اور اعمال کے بارے میں تمھارے درمیان اختلاف تھا، چنانچہ وہ اہل حق اور نیک عمل کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور اہل باطل اور بدکاروں کو سزا دے گا۔
[49]﴿ وَاَنِ احۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے اتارا‘‘ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ آیت کریمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ﴾ ’’ان کے درمیان فیصلہ کریں یا اس سے روگردانی کریں ‘‘ کو منسوخ کرتی ہے۔ صحیح رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ اس مذکورہ آیت کو منسوخ نہیں کرتی، پہلی آیت دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ حق کی خاطر فیصلہ کروانے کا قصد نہیں رکھتے تھے۔ اور یہ (دوسری) آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب آپﷺ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت یعنی قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ کریں ۔ یہی وہ انصاف ہے جس کے بارے میں گزشتہ صفحات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ ‘‘یہ آیت کریمہ عدل کی توضیح و تبیین پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ عدل کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے احکام ہیں جو انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اصولوں پر مشتمل ہیں اور جو کچھ ان احکام کے خلاف ہے، وہ سراسر ظلم و جور ہے۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ‘‘ شدت تحذیر کی خاطر اللہ تعالیٰ نے بتکرار آپﷺ کو ان کی خواہشات کی پیروی کرنے سے روکا ہے۔ نیز وہ آیت حکم اور فتویٰ کے مقام پر ہے اور اس میں زیادہ وسعت ہے اور یہ صرف حکم کے مقام پر ہے۔ دونوں آیات کا مفاد یہ ہے کہ ضروری ہے کہ ان کی خلاف حق خواہشات کی پیروی نہ کی جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَاحۡذَرۡهُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنُوۡكَ عَنۢۡ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ ﴾’’اور بچتے رہیں ان سے، اس بات سے کہ وہ کہیں آپ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے آپ کی طرف اتارا‘‘ یعنی ان کی فریب کاریوں سے بچیے، نیز ان سے بچیے کہ وہ آپ کو فتنے میں ڈال کر آپﷺ کو کسی ایسی چیز سے نہ روک دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے۔ پس ان کی خواہشات کی پیروی، حق واجب کو ترک کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ اتباع حق فرض ہے۔﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ نہ مانیں ‘‘ یعنی اگر وہ آپ کی اتباع اور حق کی پیروی سے روگردانی کریں ﴿ فَاعۡلَمۡ ﴾ ’’تو جان لیجیے‘‘ کہ یہ روگردانی ان کے لیے سزا ہے ﴿ اَنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّصِيۡبَهُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے گناہوں کے سبب کوئی سزا پہنچائے‘‘ کیونکہ گناہوں کے لیے دنیا و آخرت میں سزائیں مقرر ہیں اور سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش میں مبتلا کر دے اور اتباع رسول کے ترک کو اس کے لیے مزین کر دے اور اس کا باعث اس کا فسق ہوتا ہے ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور اکثر لوگ نافرمان ہیں ‘‘ یعنی ان کی فطرت اور طبیعت میں فسق، نیز اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و اتباع سے خروج ہے۔
[50]﴿ اَفَحُكۡمَ الۡجَاهِلِيَّةِ يَبۡغُوۡنَ﴾ ’’اب کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی کیا وہ کفار کی دوستی طلب کر کے اور آپ سے اعراض کر کے جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں ؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ ہے۔ تب اس طرح صرف دو قسم کے فیصلے ہیں ۔ (۱) اللہ اور اس کے رسولﷺ کا فیصلہ۔ (۲)جاہلیت کا فیصلہ۔ پس جو کوئی اللہ اور رسولﷺ کے فیصلوں سے منہ موڑتا ہے تو وہ دوسری قسم کے فیصلوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جو جہالت، ظلم اور گمراہی پر مبنی ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان فیصلوں کو جاہلیت کی طرف مضاف کیا ہے۔ رہے اللہ تعالیٰ کے فیصلے تو وہ علم، عدل و انصاف، نور اور ہدایت پر مبنی ہوتے ہیں ۔﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سے بہتر کون ہے حکم کرنے والا، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے‘‘ صاحب ایقان وہ ہے جو اپنے یقین کی بنیاد پر دونوں قسم کے فیصلوں کے درمیان فرق کو پہچانتا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں موجود حسن اور خوبصورتی میں امتیاز کر سکتا ہو اور عقلاً اور شرعاً ان کی اتباع کو لازم قرار دیتا ہو اور یقین سے مراد وہ علم کامل و تام ہے جو عمل کا موجب ہوتا ہے۔