Tafsir As-Saadi
5:82 - 5:86

یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86)

[82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔
[83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ: 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘
[84] گویا انھیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا: ﴿ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَؔنَا مِنَ الۡحَقِّ١ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں ) داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ دراں حالیکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آ گیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟
[85] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا‘‘ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔‘‘یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں ۔
[86] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لیے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔