Tafsir As-Saadi
5:87 - 5:88

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت حرام ٹھہراؤ وہ پاکیزہ چیزیں جن کو حلال کیا اللہ نے تمھارے لیےاور نہ حد سے گزرو یقینا اللہ نہیں پسند کرتا حد سے گزرنے والوں کو(87) اور کھاؤ اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، جس پر تم ایمان رکھتے ہو(88)

[87]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ ﴾ ’’اے ایمان والو! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمھارے لیے حلال کیا ہے، تم انھیں حرام مت کرو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں ، انھیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمھارے لیے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ۔ ورنہ تم اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی، کفران نعمت اور حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب ٹھہرو گے… اور یہ حد سے تجاوز ہے اور اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھنے سے منع فرمایا ہے ﴿ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ﴾ ’’اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہو تا ہے اور اس پر ان کو سزا دے گا۔
[88] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کے طریقے کے برعکس جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا، حکم دیا ﴿ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا﴾’’اور جو حلال طیب روزی اللہ نے تمھیں دی ہے اسے کھاؤ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس رزق میں سے کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری طرف بھیجا ہے جو تمھیں میسر ہیں ۔ بشرطیکہ یہ رزق حلال ہو اور چوری یا غصب شدہ وغیرہ مال میں سے نہ ہو جو ناحق حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ نیز وہ پاک بھی ہو، یعنی اس میں کوئی ناپاکی نہ ہو۔ اس طرح درندے اور دیگر ناپاک چیزیں اس دائرے سے نکل جاتی ہیں ۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی منہیات کے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تم پر تقویٰ اور حقوق اللہ کی رعایت و حفاظت واجب کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حلال چیز ، مثلاً: ماکولات، مشروبات یا لونڈی وغیرہ کو حرام ٹھہرا لیتا ہے تو یہ چیز اس کے حرام ٹھہرا لینے سے حرام نہیں ہو جاتی، البتہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو قسم کا کفارہ واجب ہو جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾(التحریم: 66؍1) ’’اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دی ہے۔‘‘مگر بیوی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے سے ظہار کا کفارہ لازم آئے گا۔( اس مسئلے میں کافی اختلاف ہے‘ ایک رائے یہ بھی ہے جس کا اظہارفاضل مفسر رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے‘ دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کفارۂ یمین ہے (اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے‘ واللہ اعلم) اور تیسری رائے ہے کہ اس میں سرے سے کوئی کفارہ ہی نہیں ہے۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر کا رجحان دوسری رائے کی طرف اور امام شوکانی کا تیسری رائے کی طرف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے تفسیر فتح القدیر‘ آیت زیر بحث۔ زاد المعاد، ج : 5؍ 302۔312، فتح الباري، کتاب الطلاق، والروضۃ الندیۃ، ج : 2، کتاب الطلاق وغیرھا من الکتب ( ص ۔ ی) اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ پاک چیزوں سے اجتناب کرے اور انھیں اپنے آپ پر حرام ٹھہرا لے بلکہ وہ انھیں استعمال کرے اور اس طرح اطاعت الٰہی پر ان سے مدد لے۔