Tafsir As-Saadi
5:111 - 5:120

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)

[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔