نہیں مقرر کیا اللہ نے کوئی بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ اور اکثر ان کے نہیں عقل رکھتے(103) اور جب کہا جاتا ہے ان سے آؤ تم اس چیز کی طرف جو نازل کی اللہ نے اور (آؤ) رسول کی طرف تو کہتے ہیں کافی ہے ہمیں وہ کہ پایا ہم نے اسی پر اپنے آباؤ اجداد کو، کیا اگرچہ ہوں آباؤ اجداد ان کے نہ جانتے ہوں کچھ اور نہ ہوں وہ ہدایت یافتہ(104)
[103] یہ مشرکین کی مذمت ہے جنھوں نے دین میں ایسی چیزیں گھڑ لی تھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا اور وہ چیزیں حرام قرار دے لی تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا تھا، چنانچہ انھوں نے اپنی فاسد آراء کی بنا پر اپنی ان اصطلاحات کے مطابق کچھ مویشی حرام قرار دے دیے جو کتاب اللہ کے مخالف تھیں ۔ بنابریں فرمایا:﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَحِيۡرَةٍ ﴾ ’’نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ‘‘ (بَحِیرَہ) اس اونٹنی کو کہا جاتا تھا جس کے کان پھاڑ دیا کرتے، اس پر سواری کرنے کو حرام کر لیتے اور اس کو مقدس خیال کرتے تھے۔ ﴿وَّلَا سَآىِٕبَةٍ ﴾ ’’اور نہ سائبہ‘‘ اونٹنی، گائے یا بکری جب سن رسیدہ ہو جاتی تو اسے سائبہ کہا جاتا تھا اور اسے آزاد چھوڑ دیتے تھے، اس پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر بوجھ لادا جاتا تھا۔ اور نہ اس کا گوشت کھایا جاتا تھا۔ بعض لوگ اپنے مال میں سے کچھ نذر مان کر اس کو ’’سائبہ‘‘ بنا کر چھوڑ دیتے تھے۔ ﴿ وَّلَا حَامٍ ﴾ ’’اور نہ حام‘‘ یعنی اونٹ جب ایک خاص حالت کو پہنچ جاتا جو ان کے ہاں معروف تھی تو اس اونٹ پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر سامان لادا جاتا تھا۔ ان تمام چیزوں کو مشرکین نے بغیر کسی دلیل اور برہان کے حرام قرار دے رکھا تھا یہ اللہ تعالیٰ پر افترا اور بہتان تھا جو ان کی جہالت اور بے عقلی سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَّلٰكِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ١ؕ وَاَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’لیکن کافر اللہ پر افترا باندھتے تھے اور ان کے اکثر عقل نہیں رکھتے تھے‘‘ ان مذکورہ امور میں کوئی نقلی دلیل تھی نہ عقلی۔
[104] بایں ہمہ انھیں اپنی آراء بہت پسند تھیں جو ظلم اور جہالت پر مبنی تھیں ۔ جب انھیں دعوت دی جاتی ﴿ اِلٰى مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’اس کی طرف جو اللہ نے نازل کیا اور رسول کی طرف‘‘ تو اس سے روگردانی کرتے اور اسے قبول نہ کرتے ﴿ قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰ بَآءَنَا﴾ ’’اور کہتے کہ جس دین پر ہم نے اپنے آبا و اجداد کو پایا ہے وہ ہمارے لیے کافی ہے‘‘ اگرچہ یہ دین نادرست ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ دین اللہ کے عذاب سے نجات نہ دلا سکتا ہو۔ اگر ان کے آبا و اجداد کافی ہوتے، ان میں معرفت اور درایت ہوتی تو معاملہ آسان ہوتا۔ مگر ان کے آبا و اجداد میں تو کچھ بھی عقل نہ تھی۔ ان کے پاس کوئی معقول شے تھی، نہ علم و ہدایت کا کوئی حصہ۔ ہلاکت ہے اس کے لیے جو کسی ایسے شخص کی تقلید کرتا ہے جس کے پاس علم صحیح ہے نہ عقل راجح اور وہ اللہ کی نازل کردہ کتاب اور اس کے انبیا و مرسلین کی اتباع کو چھوڑ دیتا ہے جو قلب کو علم وایمان اور ہدایت و ایقان سے لبریز کرتی ہے۔