اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ سوال کرو ایسی چیزوں کی بابت کہ اگر ظاہر کر دی جائیں وہ تمھارے لیے تو ناگوار گزریں تمھیں اور اگر پوچھو گے تم ان کی بابت جبکہ اتارا جا رہا ہے قرآن تو ظاہر کر دی جائیں گی وہ تم پر، درگزر کیا اللہ نے ان سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت بردبار ہے(101) تحقیق پوچھا تھا ان کی بابت ایک قوم نے تم سے پہلے، پھر ہو گئے وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے(102)
[101] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرنے سے منع کرتا ہے جن کو اگر ان کے سامنے بیان کر دیا جائے تو ان کو بری لگیں گی اور ان کو غمزدہ کر دیں گی ، مثلاً: بعض مسلمانوں نے اپنے آباء و اجداد کے بارے میں سوال کیا تھا کہ آیا وہ جنت میں ہیں یا جہنم میں ۔ اگر اس قسم کے سوال پر سائل کو واضح جواب دیا جائے تو بسا اوقات اس میں بھلائی نہیں ہوتی ، مثلاً: غیر واقع امور کے بارے میں ان کا سوال کرنا۔ یا ایسا سوال کرنا جس کی بنا پر کوئی شرعی شدت مترتب ہو اور بسا اوقات اس سوال کی وجہ سے امت حرج میں مبتلا ہو جاتی ہے یا کوئی اور لایعنی سوال کرنا۔ یہ سوالات اور اس قسم کے دیگر سوالات ممنوع ہیں ۔ رہا وہ سوال جس کے ساتھ مذکورہ بالا چیزوں کا تعلق نہ ہو۔ تو وہ مامور بہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(النحل: 16؍43)’’اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔‘‘﴿وَاِنۡ تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡهَا حِيۡنَ يُنَزَّلُ الۡقُرۡاٰنُ تُبۡدَ لَكُمۡ﴾ ’’اور اگر پوچھو گے یہ باتیں ، ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو تم پر ظاہر کر دی جائیں گی‘‘ یعنی جب تمھارا سوال اس کے محلِ نظر سے موافقت کرے اور تم اس وقت سوال کرو جب تم پر قرآن نازل کیاجا رہا ہو اور تم کسی آیت میں اشکال کے بارے میں سوال کرو یا کسی ایسے حکم کے بارے میں سوال کرو جو تم پر مخفی رہ گیا ہو اور یہ سوال کسی ایسے وقت پر ہو جب آسمان سے وحی کے نزول کا امکان ہو تو تم پر ظاہر کر دیا جائے گا، یعنی اس کو تمھارے سامنے واضح کر دیا جائے گا ورنہ جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ خاموش ہے تم بھی خاموش رہو۔ ﴿عَفَا اللّٰهُ عَنۡهَا﴾ ’’اللہ نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معاف کرتے ہوئے سکوت سے کام لیا۔ پس ہر وہ معاملہ جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سکوت اختیار کیا ہو وہ معاف ہے اور مباحات کے زمرے میں آتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ سے مغفرت کی صفت سے موصوف، حلم اور احسان میں معروف ہے۔ پس اس سے اس کی مغفرت اور احسان کا سوال کرو اور اس سے اس کی رحمت اور رضا طلب کرو۔
[102] یہ سوالات جن سے تمھیں منع کیا گیا ہے ﴿ قَدۡ سَاَلَهَا قَوۡمٌ مِّنۡ قَبۡلِكُمۡ ﴾ ’’تحقیق پوچھ چکی ہے یہ باتیں ایک جماعت تم سے پہلے‘‘ یعنی اس جنس کے اور اسی قسم کے سوالات تھے۔ ان کا سوال طلب رشد کے لیے نہ تھا بلکہ تلبیس کی خاطر تھا۔ جب ان کے سوال کا جواب واضح ہو کر ان کے سامنے آ گیا ﴿ثُمَّ اَصۡبَحُوۡا بِهَا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے ہو گئے‘‘ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے صحیح حدیث میں فرمایا ’’جب میں تمھیں کسی چیز سے روک دوں تو اس سے اجتناب کرو اور جب کسی کام کے کرنے کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس حکم کی تعمیل کرو کیونکہ تم سے پہلے قومیں کثرت سوال اور اپنے نبیوں سے اختلاف کرنے کی بنا پر ہلاک ہوئیں ‘‘(صحیح مسلم، الحج ، حدیث: 1337)