Tafsir As-Saadi
50:16 - 50:18

اور البتہ تحقیق ہم نے پیدا کیا انسان کو اور ہم جانتے ہیں ان کو جو باتیں کرتا ہے اس (انسان) سے اس کا دل اور ہم قریب تر ہیں اس سے (اس کی) شہ رگ سے بھی (16) جب ضبط کرتے ہیں دو ضبط کرنے والے(ایک)دائیں پہلو میں (بیٹھا ہوا) اور (دوسرا) بائیں پہلو میں بیٹھا ہوا (17) نہیں بولتا وہ (انسان) کوئی بات مگر اس کے پاس ہوتا ہے ایک نگران (فرشتہ)تیار (لکھنے کے لیے)(18)

[16] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ انسان کی جنس مرد اور عورت کو پیدا کرنے میں وہ تنہا ہے۔ وہ انسان کے تمام احوال کو جنھیں وہ چھپاتا ہے اور اس کا نفس اسے وسوسے میں مبتلا کرتا ہے، خوب جانتا ہے اور وہ ﴿ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾ ’’اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے۔‘‘ جو انسان کے سب سے زیادہ قریب والی رگ ہے، اس سے مراد وہ رگ ہے جس نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے۔ یہ چیز انسان کو اپنے خالق کے مراقبے کی دعوت دیتی ہے، جو اس کے ضمیر اور اس کے باطن سے مطلع ہے اور اس کے تمام احوال میں اس کے قریب والی رگ ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ ایسے کام کے ارتکاب سے حیا کرے جس کام سے اللہ نے اس کو روکا ہے، اس لیے کہ اللہ اس کو دیکھتا ہے، اور جس کام کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے ترک نہ کرے۔
[17] اسی طرح اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں’’ کرامًا کاتبین‘‘ کا لحاظ رکھے، ان کی عزت و توقیر کرے۔ وہ کسی ایسے قول و فعل سے بچے جو اس کی طرف سے لکھ لیا جائے جس سے رب کائنات راضی نہ ہو۔ اسی لیے فرمایا:﴿ اِذۡ يَتَلَقَّى الۡمُتَلَقِّيٰنِ۠﴾ ’’جب دو لکھنے والے لکھ لیتے ہیں۔‘‘ یعنی بندے کے تمام اعمال درج کر رہے ہیں ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ﴾ دائیں جانب کا فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے اور دوسرا فرشتہ۔ ﴿ عَنِ الشِّمَالِ﴾ بائیں جانب سے برائیاں لکھتا ہے اور ان میں ہر ایک ﴿ قَعِيۡدٌ﴾ یہ کام کرنے کے لیے بیٹھا ہوا اور اپنے اس عمل کے لیے مستعد ہے، جس کے لیے اسے مقرر کیا گیا ہے یعنی اس کام میں لگا ہوا ہے۔
[18]﴿ مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ﴾ وہ خیر یا شر جو بھی لفظ بولتا ہے ﴿ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ﴾ تو ایک نگران موجود ہوتا ہے، جو اس کے پاس ہر حال میں موجود ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحٰؔفِظِيۡنَۙ۰۰كِرَامًا كَاتِبِيۡنَۙ۰۰ يَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾(الانفطار:82؍10-12) ’’اور بے شك تم پر نگہبان مقرر ہیں، بلند مرتبہ کاتب، جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب جانتے ہیں۔‘‘