Tafsir As-Saadi
50:23 - 50:29

اور کہے گا اس کا ساتھی (فرشتہ)، یہ ہے وہ (روز نامچہ) جو میر ے پاس تیار ہے(23)(حکم ہو گا) ڈال دو تم دونوں جہنم میں ہر کافر سرکش کو (24) بھلائی سے منع کرنے والے کو، حد سے نکلنے والے، (دین میں) شک کرنے والے کو(25) وہ جس نے بنا لیا تھا اللہ کے ساتھ معبود دوسرا، پس ڈال دو تم دونوں اس کو عذاب شدید میں (26) کہے گا اس کا ساتھی (شیطان)، اے ہمارے رب! نہیں سرکش بنایا تھا میں نے اس کو اور لیکن تھا وہ (خود ہی) گمراہی میں دور کی (27) وہ (اللہ) فرمائے گا، نہ جھگڑا کرو تم میرے پاس حالانکہ میں پہلے ہی بھیج چکا تھا تمھاری طرف وعید (وعدۂ عذاب)(28) نہیں تبدیل کی جاتی بات میرے ہاں، اور نہیں میں ظلم کرنے والا بندوں پر(29)

[23] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَقَالَ قَرِيۡنُهٗ﴾ اس جھٹلانے اور روگردانی کرنے والے کا فرشتوں میں سے وہ ساتھی جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اور اس کے اعمال کی حفاظت کے لیے مقرر کیا ہے، قیامت کے روز اس کے سامنے موجود ہو گا اور اس کے اعمال کو اس کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا:﴿هٰؔذَا مَا لَدَيَّ عَتِيۡدٌ﴾ ’’یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے۔‘‘ یعنی میں نے وہ سب کچھ پیش کر دیا ہے جس کی حفاظت اور اس کے عمل کو محفوظ رکھنے پر مجھے مقرر کیا گیا تھا ۔
[24] پس اب اس کے عمل کی جزا دی جائے گی۔ جو کوئی جہنم کا مستحق ہو گا اس سے کہا جائے گا: ﴿اَلۡقِيَا فِيۡ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيۡدٍ﴾ ’’ہر ناشکر ے، سرکش کو جہنم میں ڈال دو۔‘‘ یعنی جو بہت زیادہ کفر کرنے والا، آیات الٰہی سے عناد رکھنے والا، بہت کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرنے والا، اور اللہ تعالیٰ کے محارم اور معاصی میں جسارت کرنے والا ہے۔
[25]﴿مَّنَّاعٍ لِّلۡخَيۡرِ﴾ ’’بھلائی سے روکنے والا۔‘‘ اس کے پاس جو بھلائی موجود ہے وہ اسے روکتا ہے، جس میں سے سب سے بڑی بھلائی اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے اور وہ اپنے مال اور بدن کے فائدے کو (لوگوں تک پہنچنے سے) روکتا ہے ﴿مُعۡتَدٍ﴾ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر زیادتی کرنے والا اور اس کی حدود سے تجاوز کرنے والا ہے ﴿مُّرِيۡبِ ﴾ اللہ تعالیٰ کے وعد ے اور وعید میں شک کرنے والا ہے۔ اس میں کوئی ایمان ہے نہ احسان، بلکہ اس کا وصف، کفر و عدوان، شک و ریب، بخل اور رحمان کو چھوڑ کر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنا ہے۔
[26] بنابریں فرمایا: ﴿الَّذِيۡ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ ﴿ فَاَلۡقِيٰهُ﴾ اس کے دونوں ساتھی فرشتو! اس کو ڈال دو ﴿ فِي الۡعَذَابِ الشَّدِيۡدِ ﴾ ’’سخت عذاب میں۔‘‘ جو سب سے بڑا، سب سے سخت اور سب سے برا عذاب ہے۔
[27]﴿ قَالَ قَرِيۡنُهٗ ﴾ اس کا شیطان ساتھی اس سے بری ٔالذمہ ہوتے ہوئے اور اس کے گناہ کا اسی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہے گا: ﴿ رَبَّنَا مَاۤ اَطۡغَيۡتُهٗ ﴾ ’’اے ہمارے رب! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا‘‘ کیونکہ مجھے اس پر کوئی اختیار تھا نہ میرے پاس کوئی دلیل و برہان تھی’’بلکہ یہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا، وہ خود ہی اپنے اختیار سے گمراہ ہو کر حق سے دور ہو گیا۔ جیسا کہ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَوَعَدۡتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ۠ ﴾(ابراہیم:14؍22) ’’جب فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا: بے شک اللہ نے تمھارے ساتھ سچا وعدہ کیا اور میں نے جو وعدہ تمھارے ساتھ کیا ، میں نے اس کی خلاف ورزی کی ۔ میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا ہی نہیں، میں نے تمھیں پکارا اور تم نے میری مان لی۔ پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمھارا فریادرس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
[28] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی آپس کی خصومت کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ لَا تَخۡتَصِمُوۡا لَدَيَّ ﴾ ’’میرے پاس نہ جھگڑو‘‘ یعنی میرے پاس تمھارے آپس میں جھگڑنے کا فائدہ نہیں۔ ﴿ وَ ﴾ حالانکہ ﴿ قَدۡ قَدَّمۡتُ اِلَيۡكُمۡ بِالۡوَعِيۡدِ ﴾ ’’میں تمھارے پاس وعید بھیج چکا تھا۔‘‘ یعنی میرے رسول کھلی نشانیاں، واضح دلائل، اور روشن براہین لے کر تمھارے پاس آئے، تم پر میری حجت قائم اور تمھاری حجت منقطع ہو گئی تم نے اپنے گزشتہ اعمال میرے سامنے پیش کیے جن کی جزا واجب ہے۔
[29]﴿ مَا يُبَدَّلُ الۡقَوۡلُ لَدَيَّ ﴾ ’’میرے ہاں بات بدلا نہیں کرتی۔‘‘ یعنی یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا اور جو خبر دی ہے، اس کی خلاف ورزی کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی ہستی اپنے قول اور اپنی بات میں سچی نہیں ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ﴾ ’’اور میں بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ بلکہ وہ اچھا اور برا جو عمل کرتے ہیں اسی کی جزا و سزا دیتا ہوں، ان کی برائیوں میں اضافہ کیا جاتا ہے نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جاتی ہے۔