(یاد کرو!) جس دن ہم کہیں گے جہنم سے، کیا تو بھر گئی ہے؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ مزید ہے؟ (30) اور قریب کی جائے گی جنت متقی لوگوں کے، نہیں ہو گی وہ دور (31) یہ ہے وہ جس کا وعدہ دیا جاتا تھا تمھیں، ہر خوب رجوع کرنے والے (امر الہی) حفاظت کرنے والے کو (32) جو ڈر گیا رحمٰن سے بن دیکھے، اور وہ لایا دل رجوع کرنے والا (33)(کہا جائے گا) تم داخل ہو جاؤ اس (جنت) میں سلامتی سے، یہی ہے دن ہمیشہ رہنے کا (34) ان کے لیے ہو گا جو کچھ وہ چاہیں گے اس میں، اور ہمارے پاس مزید بھی ہے (35)
[30] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿يَوۡمَ نَقُوۡلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امۡتَلَاۡتِ﴾ ’’اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جہنم میں ڈالے گئے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہو گا ﴿وَتَقُوۡلُ هَلۡ مِنۡ مَّزِيۡدٍ﴾ ’’وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے۔‘‘ یعنی جہنم اپنے رب کی خاطر ناراضی اور کفار پر غیظ و غضب کی وجہ سے اپنے اندر مجرموں کے اضافے کا مطالبہ کرتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ﴾(السجدہ:32؍13) ’’میں جہنم کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔ حتیٰ کہ اللہ رب العزت اپنا قدم کریم، جو تشبیہ سے پاک ہے، جہنم میں رکھ دے گا۔ جہنم کی لپٹیں ایک دوسرے کی طرف سمٹ جائیں گی، جہنم پکار اٹھے گی، بس کافی ہے، میں بھر چکی ہوں۔
[31]﴿وَاُزۡلِفَتِ الۡؔجَنَّةُ﴾ جنت کو قریب کر دیا جائے گا ﴿لِلۡمُتَّقِيۡنَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے، دور نہ ہوگی۔‘‘ جہاں اس کا مشاہدہ کیا جا سکے گا، اس کی دائمی نعمتوں اور مسرتوں کو دیکھا جا سکے گا۔ جنت کو صرف ان لوگوں کے قریب کیا جائے گا جو اپنے رب سے ڈر کر شرک اکبر اور شرک اصغر سے اجتناب کرتے ہیں، نیز اپنے رب کے احکام کی تعمیل اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
[32] انھیں مبارک بادی کے طور پر کہا جائے گا ﴿هٰؔذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيۡظٍ﴾ ’’یہی وہ چیز ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر رجوع کرنے والے اور حفاظت کرنے والے سے۔‘‘ یعنی یہ جنت، اور اس میں جو کچھ موجود ہے، جس کی نفوسِ انسانی خواہش رکھتے ہیں، جس سے آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں، جس کا ہر اس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کے ساتھ محبت، اس سے استعانت، اس سے دعا اور اس کے خوف اور اس سے امید کے ذریعے سے، اس کی طرف بہت کثرت سے رجوع کرتا ہے۔ ﴿ حَفِيۡظٍ﴾ اخلاق اور تکمیل کے ساتھ کامل ترین طریقے سے ان اوامر کی تعمیل کرتا ہے، نیز اس کی حدود کی حفاظت کرتا ہے۔
[33]﴿مَنۡ خَشِيَ الرَّحۡمٰنَ﴾ اپنے رب کی پوری معرفت، اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے اس سے ڈرتا ہے، اپنی حالت غیب ، یعنی جب وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے، تو خشیت الٰہی کا التزام کرتا ہے۔ اور یہی حقیقی خشیت ہے۔ رہی وہ خشیت جس کا اظہار لوگوں کی نظروں کے سامنے اور ان کی موجودگی میں کیا جائے تو اس میں کبھی کبھی ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ آ جاتا ہے۔ یہ حقیقی خشیت پر دلالت نہیں کرتی۔ فائدہ مند خشیت تو صرف وہی ہے جو کھلے اور چھپے ہر حال میں ہو۔ ﴿وَجَآءَ بِقَلۡبٍ مُّنِيۡبِ﴾ ’’اور رجوع کرنے والا دل لے کر آیا۔‘‘ یعنی اس کا وصف اپنے آقا کی طرف رجوع ہو اور اس کے تمام داعیے اپنے آقا کی رضا میں جذب ہو گئے ہوں۔
[34] ان نیک اور پرہیزگار لوگوں سے کہا جائے گا ﴿ادۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ﴾ اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ داخلہ ہر قسم کی آفات اور شر سے سلامتی سے مقرون اور تمام ناپسندیدہ امور سے مامون ہے۔ ان کو عطا کی گئی نعمتیں منقطع ہوں گی نہ ان میں کوئی تکدر اور بدمزگی آئے گی۔ ﴿ذٰلِكَ يَوۡمُ الۡخُلُوۡدِ﴾ ’’یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔‘‘ جسے کبھی زوال آئے گا نہ موت اور نہ کسی قسم کا کوئی تکدر ہو گا۔
[35]﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ فِيۡهَا﴾ انھیں وہاں ہر وہ چیز حاصل ہو گی، جس سے ان کی چاہت وابستہ ہو گی۔ اس سے بڑھ کر ﴿مَزِيۡدٌ ﴾ ’’اور بھی زیادہ ہے‘‘ یعنی ثواب، جسے رحمان و رحیم ان کے لیے بڑھاتا رہے گا، جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی اس کا گزر ہوا ہے... سب سے بڑا، سب سے جلیل اور سب سے افضل ثواب اللہ تعالیٰ کے چہرہ انور کا دیدار، اس کے کلام کی سماعت اور اس کے قرب کی نعمت ہو گی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی انھی لوگوں میں شامل کردے۔