Tafsir As-Saadi
51:15 - 51:19

بلاشبہ متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (15) لینے والے ہوں گے اس کو جو دے گا، انھیں ان کا رب، بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے نیکو کار (16) تھے وہ بہت ہی تھوڑا رات کو سوتے (17) اور سحری کے وقت وہ مغفرت طلب کرتے (18) اور ان کے مالوں میں حق (ہوتا) تھا واسطے سائل اور محروم کے(19)

[15] اللہ تبارک و تعالیٰ متقین کے ثواب اور ان کے ان اعمال کا ذکر فرماتا ہے جن کے باعث انھیں یہ ثواب حاصل ہوا۔ ﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا شعار تقویٰ اور ان کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ﴾ ان باغات میں ہوں گے جو مختلف انواع کے درختوں اور میووں پر مشتمل ہو گی، جن کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے اور ایسے بھی ہوں گے جن کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔ ان جیسا میوہ آنکھوں نے کبھی دیکھا ہو گا نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ بندوں کے تصور میں کبھی آیا ہو گا۔ ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ وہ بہتے ہوئے چشموں میں ہوں گے، ان چشموں سے ان باغات کو سیراب کیا جائے گا، اور اللہ کے بندے ان چشموں سے پانی پئیں گے اور ان سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے۔
[16]﴿ اٰخِذِيۡنَ مَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ ’’ان کا رب انھیں جو کچھ دے گا وہ اسے لے لیں گے۔‘‘ اس میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اہل جنت کا آقا، ان کی نعمتوں کے بارے میں تمام آرزوئیں پوری کرے گا اور وہ اپنے آقا سے راضی ہو کر یہ نعمتیں قبول کریں گے، اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے نفوس خوش ہوں گے، وہ ان کو بدلنا چاہیں گے نہ اس سے منتقل ہونے کی خواہش کریں گے۔ (جنت میں) ہر شخص کو اتنی نعمتیں عطا ہوں گی کہ وہ اس سے زیادہ طلب نہیں کرے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ متقین کا یہ وصف دنیا کے اندر ہو ، یعنی اللہ تعالیٰ دنیا کے اندر جو اوامر و نواہی ان کو عطا کرتا ہے وہ نہایت خوش دلی، انشراح صدر کے ساتھ، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اور بہترین طریقے سے ان پر عمل کرتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور جن امور سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا ہے وہ اس سے پوری طرح رک جاتے ہیں۔ پس جن کو اللہ تعالیٰ نے اوامر و نواہی عطا کیے ہیں، یہ سب سے بڑا عطیہ ہے اور اس کا حق یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، اطاعت کے جذبے کے ساتھ قبول کیا جائے۔ پہلا معنی سیاق کلام کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (آگے چل کر) ان الفاظ میں دنیاکے اندر ان کے وصف اور ان کے اعمال کا ذکر کیا ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ ﴾ یعنی اس وقت سے پہلے، جب انھیں جنت کی نعمتیں حاصل ہوں گی ﴿ مُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’وہ نیکوکار تھے۔‘‘یہ ان کی اپنے رب کی عبادت میں ’’احسان‘‘ کو شامل ہے یعنی وہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر وہ اسے دیکھنے کی کیفیت پیدا نہ کر سکتے تو یہ کیفیت لیے ہوئے ہوتے تھے کہ ان کا رب انھیں دیکھ رہا ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بھی احسان کو شامل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اپنے مال، علم، جاہ، خیر خواہی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر ، نیکی اور بھلائی کے مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ حتیٰ کہ اس میں نرم کلام ، غلاموں، بہائم، مملوکہ اور غیر مملوکہ کے ساتھ حسن سلوک بھی داخل ہے۔
[17] خالق کی عبادت میں احسان کی بہترین نوع، تہجد کی نماز ہے جو اخلاص اور قلب و لسان کی موافقت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ كَانُوۡا﴾ یعنی نیکوکار ﴿ قَلِيۡلًا مِّنَ الَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُوۡنَ﴾ ان کی راتوں کی نیند بہت کم ہوتی تھی۔ رات کے اکثر حصے میں نماز قراء ت، دعا، اور آہ و زاری کے ذریعے سے اپنے رب کے حضور جھکے رہتے تھے۔
[18]﴿ وَبِالۡاَسۡحَارِ﴾ طلوع فجر سے تھوڑا سا پہلے ﴿ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠﴾ وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ وہ اپنی نماز کو طلوع سحر کے وقت تک لمبا کرتے ہیں، پھر قیام لیل کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ سحر کے وقت استغفار میں ایسی فضیلت اور خاصیت ہے جو کسی اور وقت استغفار کرنے میں نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان و اطاعت کے وصف میں فرمایا:﴿ وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾(آل عمران:3؍17) ’’اوقات ِسحر میں استغفار کرنے والے۔‘‘
[19]﴿ وَفِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ﴾ ان کے اموال میں حق واجب اور حق مستحب ہے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ یعنی ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال کرتے ہیں اور ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتے۔