Tafsir As-Saadi
52:17 - 52:20

بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نعمتوں میں ہوں گے (17) لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو دے گا ان کو ان کا رب اور بچا لیا انھیں ان کے رب نے عذاب جہنم سے (18)کھاؤ اور پیو خوب مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے(19) تکیہ لگائے ہوں گے ایسے تختوں پر جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں گے اور ہم نکاح کر دیں گے ان کا بڑی آنکھوں والی حوروں سے (20)

[17] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد، اہل تقویٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تاکہ ترغیب و ترہیب کو اکٹھا کر دے اور دل خوف و رجا کے درمیان رہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ جنھوں نے اپنے رب کے لیے تقویٰ کو اپنا شعار بنایا جو اس کے اوامر کے تعمیل اور اس کی نواہی سے کنارہ کشی کر کے اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچتے رہے۔ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ﴾ وہ باغات میں ہوں گے ، ان باغات کی روشوں کو گھنے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہو گا، ان میں اچھلتی کودتی ندیاں ہوں گی، چار دیواری سے گھرے ہوئے محل اور آراستہ کیے ہوئے گھر ہوں گے ﴿ وَّنَعِيۡمٍ﴾ ’’اور نعمتوں میں ہوں گے‘‘ یہ قلب کی نعمت اور روح و بدن کی نعمت کو شامل ہے۔
[18]﴿ فٰــكِهِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ یعنی ان کا رب ان کو جس نعمت سے نوازے گااس سے خوش ہوتے ہوئے، نہایت فرحت و سرور کے ساتھ اس سے متمتع ہوتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ ایسی نعمت جس کا وصف ممکن نہیں اور نہ کوئی نفس یہ جانتا ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی ہے۔ پس ان کو ان کی پسندیدہ چیزیں عطا کرے گا اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچائے گا کیونکہ انھوں نے وہ کام کیے جو ان کے رب کو پسند تھے اور ان کاموں سے اجتناب کیا جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔
[19]﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ یعنی ہر قسم کے لذیذ کھانے اور مشروبات جو تمھارا دل چاہتا ہے کھاؤ پیو ﴿هَنِيۡٓـًٔۢا﴾ یعنی مزے سے، بہجت و سرور اور فرحت و مسرت کے ساتھ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تمھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے ، تمھارے نیک اعمال اور اچھے اقوال کے باعث حاصل ہوا ہے۔
[20]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصۡفُوۡفَةٍ﴾ ’’وہ برابر بچھے ہوئے (شاندار) تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ الاتکاء سے مراد ہے راحت اور قرار کے ساتھ جم کر بیٹھنا۔ اَلسُّرُرُ سے مراد وہ تخت ہیں جو قیمتی پارچات اور خوبصورت بچھونوں سے آراستہ کیے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا تختوں کا وصف بیان کرنا، کہ وہ صف در صف بچھائے گئے ہوں گے، ان کی کثرت، حسن تنظیم، اہل جنت کے اجتماع، ان کی مسرت، ان کے حسن معاشرت اور باہم ملاطفت پر دلالت کرتا ہے۔ جب ان کے لیے قلب اور بدن و روح کی ایسی ایسی نعمتیں یکجا ہو جائیں گی یعنی لذیذماکولات، مشروبات اور حسین اور دلکش مجالس، جن کا گزر کبھی تصور و خیال میں بھی نہ ہوا ہو گا تو عورتوں کے ساتھ تمتع کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا، جن کے بغیر مسرت کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ان کے لیے ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے اوصاف، تخلیق اور اخلاق کے اعتبار سے کامل ترین عورتیں ہوں گی ۔اس لیے فرمایا:﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ عِيۡنٍ﴾ ’’اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کریں گے۔‘‘ اس سے مراد وہ عورتیں ہیں، جن میں ظاہری حسن و جمال اور اخلاق فاضلہ جمع ہیں، جو اپنے حسن و جمال سے دیکھنے والوں کو متحیر کر دیتی ہیں اور لوگوں کی عقل سلب کر لیتی ہیں اور دل و صال کی چاہت میں ان کی طرف اڑ کر جاتے ہیں۔ اَلْعَیْنُ سے مراد ملیح اور خوبصورت آنکھوں والی عورتیں جن کی آنکھوں کی سفیدی اور سیاہی نہایت صاف اور واضح ہو۔