Tafsir As-Saadi
53:1 - 53:18

قسم ہے ستارے کی جب وہ گرتا ہے(1) نہیں بہکا تمھارا ساتھی اور نہ وہ بھٹکا(2) اور نہیں بولتا وہ (اپنی) خواہش سے(3) نہیں ہے وہ مگر وحی کہ بھیجی جاتی ہے(اس کی طرف)(4) سکھایا اس کو مضبوط قوتوں والے(جبریل) نے(5) جو نہایت طاقتور ہے ، پھر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا(6) ا ور وہ (آسمان کے) بلند کنارے پر تھا(7) پھر وہ قریب ہوا، پس اتر آیا(8) تو ہو گیا وہ بقدر دو کمانوں کےبلکہ اس سے بھی زیادہ قریب(9) پھر اس نے وحی پہنچائی اللہ کے بندے کو جو وحی پہنچائی (10) نہیں جھوٹ بولا دل نے جو کچھ اس نے دیکھا (11) کیا پس تم جھگڑتے ہو اس سے اس پر جو اس نے دیکھا؟ (12) اور البتہ تحقیق اس (رسول) نے دیکھا اس (جبریل) کو ایک بار اور بھی (13) نزدیک سدرۃ المنتٰہی کے (14) نزدیک ہی ہے اس کےجنت الماویٰ (15) جب ڈھانپ رہا تھا سدرہ کو جو کچھ ڈھانپ رہا تھا (16) نہ بہکی نگاہ اور نہ وہ حد سے بڑھی (17) یقیناً اس (رسول) نے دیکھیں بعض نشانیاں اپنے رب کی بڑی (بڑی)(18)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ ستارے کے ٹوٹنے کی، یعنی رات کے آخری حصے میں، جب رات کے جانے اور دن کے آنے کا وقت ہوتا ہے، اس وقت افق میں ستارے کے گرنے کی قسم کھاتا ہے کیونکہ اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر کی موجب ہیں کہ اس کی قسم کھائی جائے۔ اور صحیح یہ ہے کہ (النجم) ستارہ اسم جنس ہے جو تمام ستاروں کو شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ جو وحی الٰہی لے کر آئے ہیں، اس کی صحت پر اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم کھائی ہے کیونکہ وحی الٰہی اور ستاروں کے مابین ایک عجیب مناسبت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کو آسمان کی زینت بنایا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے وحی اور اس کے آثار کو زمین کے لیے زینت بنایا پس اگر انبیاء کرام علیہ السلام کی طرف سے موروث علم نہ ہوتا تو لوگ (گمراہی کے)تیرہ و تار اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے جو شبِ تاریک کے اندھیروں سے بھی گہرے ہوتے ہیں۔
[2] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے رسول اللہ ﷺ کا اپنے علم میں ضلالت سے اور اپنے قصد میں گمراہی سے منزہ اور پاک ہونا۔ اور اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آپ اپنے علم میں راست رو، راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والے، حسن قصد رکھنے والے اور مخلوق کی خیر خواہی کرنے والے ہیں۔ اس کے برعکس فساد علم اور سوء قصد کا راستہ وہ ہے، جس پر گمراہ لوگ گامزن ہیں۔ اور فرمایا:﴿ صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’ تمھارا ساتھی‘‘ تاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمھارے ساتھی کے ان اوصاف کی طرف اشارہ کرے جن کا وہ آپ کے اندر موجود ہونے کا اعتراف کرتے ہیں ، مثلاً: صدق اور ہدایت، نیز یہ کہ آپ کا معاملہ ان پر مخفی نہیں ہے۔
[3، 4]﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى﴾ یعنی آپ کا کلام، خواہش نفس سے صادر نہیں ہوتا ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى ﴾ یعنی آپ صرف اس چیز کی پیروی کرتے ہیں، جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے، یعنی ہدایت اور اپنے اور دیگر لوگوں کے بارے میں تقویٰ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ سنت بھی رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجی ہوئی وحی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾(النساء: 4؍113) ’’اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی۔‘‘ نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ اور اس کی شریعت کے بارے میں خبر دینے میں معصوم ہیں، کیونکہ آپ کا کلام کسی خواہش نفس سے صادر نہیں ہوتا یہ تو وحی سے صادر ہوتا ہے جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
[5] پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے معلم کا ذکر فرمایا اور وہ ہیں جبریلu، جو مکرم فرشتوں میں سب سے افضل، سب سے قوی اور سب سے کامل ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ عَلَّمَهٗ شَدِيۡدُ الۡقُوٰى ﴾ یعنی جبریلu جو نہایت طاقتور ظاہری اور باطنی قویٰ کے مالک ہیں، اس وحی کو لے کر رسول مصطفیﷺ پر نازل ہوئے۔ حضرت جبریل اس حکم کو نافذ کرنے میں، جس کو نافذ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا، بہت طاقتور ہیں۔ اس وحی کو رسول اللہﷺ تک پہنچانے اور اس کو شیاطین کے اچک لینے سے بچانے اور اس کے اندر ان کی دخل اندازی سے حفاظت کرنے میں یہ قوی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی وحی کی حفاظت ہے کہ اس نے اس وحی کو ایسے پیغامبر فرشتے کے ساتھ بھیجا جو نہایت طاقتور اور امانت دار ہے۔
[6]﴿ ذُوۡ مِرَّةٍ﴾ یعنی وہ قوت، خلق حسن، ظاہری اور باطنی جمال کا حامل ہے ﴿ فَاسۡتَوٰى﴾ ’’ پھر وہ (اپنی اصلی صورت میں) سیدھے کھڑے ہوگئے‘‘ یعنی جبریلu ۔
[7]﴿وَهُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰى﴾ ’’جبکہ وہ اونچے کنارے پر تھے۔‘‘ یعنی آسمان کے افق پر جو زمین سے بلند تر ہوتا ہے، اس کا شمار ان ارواح علویہ میں ہوتا ہے جنھیں شیاطین حاصل کر سکتے ہیں نہ ان تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
[8]﴿ ثُمَّ دَنَا﴾ پھر جبریلuوحی پہنچانے کے لیے نبی ٔاکرمﷺ کے قریب ہوئے ﴿فَتَدَلّٰى﴾ ’’اور اتر آئے‘‘ افق اعلیٰ سے آپ کے قریب۔
[9]﴿ فَكَانَ﴾ ہوگیا جبریلu کا آپ سے قرب ﴿ قَابَ قَوۡسَيۡنِ﴾ دو کمانوں کے فاصلے پر ﴿ اَوۡ اَدۡنٰى﴾ یا دو کمانوں کے فاصلے سے بھی قریب تر۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت جبریلu پیغام لے کر کامل طور پر رسول اللہ ﷺ سے بالمشافہ ملے، نیز اس پر بھی دلیل ہے کہ آپ کے اور جبریلu کے درمیان کوئی واسطہ نہ تھا۔
[10]﴿ فَاَوۡحٰۤى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے جبریلu کے توسط سے وحی کی ﴿ اِلٰى عَبۡدِهٖ﴾ ’’اپنے بندے حضرت محمدﷺ کی طرف ﴿مَاۤ اَوۡحٰى﴾’’جو وہی کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف عظیم شریعت اور درست خبریں وحی کیں۔
[11، 12]﴿ مَا كَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰى ﴾ ’’اس (رسول) نے جو کچھ دیکھا، اس کے دل نے (اس کے متعلق) جھوٹ نہیں بولا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف جو بھیجی، اس پر آپ کا قلب مبارک اور آپ کی رؤ یت، آپ کی سماعت اور آپ کی بصارت متفق تھے۔ یہ اس وحی کے کامل ہونے کی دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف بھیجی، نیز یہ اس بات کی دليل ہے کہ آپ نے وحی کو اس طرح حاصل کیا کہ اس میں کوئی شک شبہ نہ تھا۔ آپ کی آنکھ مبارک نے جو کچھ دیکھا، آپ کے قلب مقدس نے اس کو نہیں جھٹلایا اور نہ اس میں کوئی شک ہی کیا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ بڑی بڑی آیات الٰہی ہوں جو اس رات آپ کو دکھائی گئیں جس رات آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا، آپ کو اپنے قلب مبارک اور رؤ یت کے ساتھ، اس کے حق ہونے کا یقین تھا، آیت کریمہ کی یہی تفسیر صحیح ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد معراج کی رات رسول اللہ ﷺ کا اپنے رب کا دیدار اور اس کے ساتھ ہم کلام ہونا ہے، اسے بہت سے علمائے کرام نے اختیار کیا ہے، پھر وہ اسی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ کے لیے دنیا میں دیدار الٰہی کو ثابت کرتے ہیں۔ مگر پہلا قول صحیح ہے کہ اس سے مراد جبریلu ہیں جیسا کہ آیات کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے۔ نیز یہ اس امر کی بھی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل uکو اپنی اصلی شکل میں دو مرتبہ دیکھا۔ ایک مرتبہ آسمان دنیا کے نیچے افق اعلیٰ میں جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے اور دوسری دفعہ ساتویں آسمان کے اوپر جس رات آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔
[13، 14]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ نَزۡلَةً اُخۡرٰؔى﴾ یعنی رسول اللہ ﷺ نے جبریل uکو دوسری دفعہ اپنی طرف اترتے ہوئے دیکھا ﴿ عِنۡدَ سِدۡرَةِ الۡمُنۡتَهٰى﴾ ’’سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔‘‘ سدرۃ المنتہیٰ ساتویں آسمان پر بیری کا بہت بڑا درخت ہے اور اسے سدرۃ المنتہیٰ اس لیے کہا جاتا ہے کہ زمین سے جو چیز اوپر کی طرف عروج کرتی ہے، اس کے پاس آ کر رک جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو وحی وغیرہ نازل ہوتی ہے یہاں آ کر ٹھہر جاتی ہے۔ یا اس بنا پر اسے سدرۃ المنتہیٰ کہا جاتا ہے کہ یہ مخلوقات کے علم کی انتہائی حد ہے۔ نیز اس نام سے موسوم کیے جانے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ آسمانوں اور زمین کے اوپر واقع ہے اور سدرۃ المنتہیٰ اس کی بلندی کی انتہا ہے، اس کے علاوہ بھی کوئی سبب ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔چنانچہ اس مقام پر جو پاک، خوبصورت اور بلند مرتبہ ارواح کا مقام ہے، جہاں شیطان اور دیگر ارواح خبیثہ نہیں ٹھہر سکتیں، حضرت محمد ﷺ نے جبریلu کو دیکھا۔
[15]﴿عِنۡدَهَا﴾ یعنی اس درخت کے پاس ہی ﴿ جَنَّةُ الۡمَاۡوٰى﴾ ’’ جنت الماوٰی ہے۔‘‘ یعنی وہ جنت جس میں ہر نعمت جمع ہے۔ یہ ایسا مقام ہے، جو منتہائے آرزو ہے جس کی طرف ارادے راغب رہتے ہیں، جہاں چاہتیں جا کر ٹھہرتی ہے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جنت بلند ترین مقام ہے اور ساتویں آسمان پر واقع ہے۔
[16]﴿ اِذۡ يَغۡشَى السِّدۡرَةَ مَا يَغۡشٰى﴾ ’’ اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا۔‘‘ یعنی امر الٰہی سے ایک عظیم چیز نے اسے ڈھانپ رکھا تھا جس کا وصف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
[17]﴿ مَا زَاغَ الۡبَصَرُ﴾ یعنی نگاہ اپنے مقصود سے ہٹ کر دائیں بائیں نہیں ہوئی۔ ﴿ وَمَا طَغٰى﴾ اور نہ نگاہ ہی نے اپنے مقصود سے تجاوز ہی کیا ، یہ رسول اللہ ﷺ کا کمال ادب ہے کہ آپ اس مقام پر کھڑے رہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کھڑا کیا، آپ اس مقام سے پیچھے ہٹے نہ اس سے تجاوز کیا اور نہ ادھر ادھر ہی انحراف کیا۔ یہ کامل ترین ادب ہے جس میں آپ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ مندرجہ ذیل امور میں سے کسی ایک پر عمل کرنے سے کمال ادب میں خلل واقع ہوتا ہے:| بندہ ان امور پر قائم نہ رہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔| اس میں کوتاہی کرے۔| اس میں افراط سے کام لے۔| اس سے قائم رہتے ہوئے دائیں بائیں التفات کرے۔ مذکورہ تمام امور میں سے ایک بھی نبی ٔاکرم ﷺ کے اندر موجود نہ تھا۔
[18]﴿ لَقَدۡ رَاٰى مِنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی کچھ بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔‘‘ یعنی جنت، جہنم اور دیگر آیات الٰہی جن کا آپ نے معراج کی رات مشاہدہ کیا۔