Tafsir As-Saadi
53:19 - 53:25

خبر دو تم مجھے لَات اور عُزّٰی کی(19) اور مَنَات تیسرے کی جو گھٹیا ہے (20) کیا تمھارے لیے لڑکے ہیں اور اس (اللہ) کے لیے لڑکیاں؟ (21) یہ تو اس وقت تقسیم ہے ظالمانہ (22) نہیں ہیں یہ (بت کچھ بھی)مگر چند نام ہی کہ نام رکھے ہیں وہ، تم نے اور تمھارے باپ دادوں نے، نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل، نہیں پیروی کرتے وہ (لوگ) مگر گمان کی اور اس چیز کی جو چاہتے ہیں (ان کے) نفس (دل)، حالانکہ یقیناً آچکی ہے ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت (23) کیا (میسر) ہے انسان کے لیے جو وہ تمنا کرے؟ (24) پس اللہ ہی کے لیے ہے پچھلا جہان اور پہلا جہان (25)

[19، 20] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس ہدایت اور دین حق جس کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تھے، نیز عبادت الٰہی اور توحید الٰہی کا ذکر کرنے کے بعد اس مسلک کے بطلان کا ذکر فرمایا جس پر مشرکین گامزن تھے، یعنی ایسی ہستیوں کی عبادت، جو اوصاف کمال سے محروم ہیں، جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، یہ معانی سے خالی محض نام ہیں جن کو مشرکین اور ان کے جاہل اور گمراہ آباء و اجداد نے گھڑ لیا ہے، انھوں نے ان کے لیے اسمائے باطلہ ایجاد کیے، جن کی وہ مستحق نہ تھیں، پس انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دیگر گمراہ لوگوں کو فریب میں مبتلا کیا۔جن معبودوں کا یہ حال ہو وہ عبادت کا ذرہ بھر استحقاق نہیں رکھتے۔ یہ خود ساختہ ہمسر جن کو انھوں نے ان ناموں سے موسوم کیا ہے اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ یہ نام ان اوصاف سے مشتق ہیں، جن سے یہ متصف ہیں۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد اور شرک کی جسارت کرتے ہوئے لات کو الٰہ سے مشتق کر کے موسوم کیا جو عبادت کا مستحق ہے، عزیز سے عزّٰی اورمنان سے منات کو مشتق کیا۔ یہ تمام نام معانی سے خالی ہیں، چنانچہ ہر وہ شخص جو ادنیٰ سی عقل سے بہرہ مند ہے وہ ان نام نہادمعبودوں کے اندر ان اوصاف کے بطلان کا علم رکھتا ہے۔
[21]﴿ اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الۡاُنۡثٰى ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے لیے بزعم خود بیٹیاں قرار دیتے ہو اور اپنے لیے بیٹے؟
[22]﴿ تِلۡكَ اِذًا قِسۡمَةٌ ضِيۡزٰى ﴾ تب تو یہ بہت ہی ظالمانہ تقسیم ہے۔ اس تقسیم سے بڑھ کر کون سا ظلم ہو سکتا ہے جو خالق پر بندۂ مخلوق کی فضیلت کو مقتضی ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند ہے۔
[23]﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾ ’’یہ تو صرف نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں۔ اللہ نے تو ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔‘‘ یعنی تمھارے مذہب کے صحیح ہونے پر تمھارے پاس کوئی دلیل و برہان نہیں۔ ہر وہ امر جس پر اللہ تعالیٰ نے دلیل نازل نہ کی ہو، باطل اور فاسد ہوتا ہے، اسے دین نہیں بنایا جا سکتا۔ درحقیقت وہ کسی دلیل و برہان کی پیروی نہیں کرتے کہ انھیں اپنے مذہب کے صحیح ہونے کا یقین ہو۔ محض گمان فاسد، جہالت، خواہشات نفس پر مبنی مشرکانہ عقائد اور خواہشات نفس کے موافق بدعات ان کے نظریات کی دلیل ہیں، حالانکہ علم و ہدایت کے فقدان کی وجہ سے، وہم و گمان کے سوا کوئی ایسا موجب نہیں جو اس کا تقاضا کرتا ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ مِّنۡ رَّبِّهِمُ الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اور البتہ یقیناً ان کے رب کی طرف سے، ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔‘‘ جو توحید و نبوت اور ان تمام امور میں ان کی راہ نمائی کرتی ہے، بندے جن کے محتاج ہیں، پس ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین، واضح ترین اور مضبوط ترین دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے اس پر دلائل و براہین قائم کیے ہیں جو ان کے لیے اور دیگر لوگوں کے لیے اتباع کے موجب ہیں۔ اس بیان و برہان کے بعد کسی کے لیے کوئی حجت اور عذر باقی نہیں رہا۔جب ان کے مذہب کی غرض و غایت محض ظن و گمان کی پیروی، اس کی انتہا شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی ہے، تو (ان کا) اس حال پر باقی رہنا سب سے بڑی سفاہت اور سب سے بڑا ظلم ہے۔
[24، 25] بایں ہمہ وہ اپنی آرزوؤ ں میں گم اور خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی بات کا انکار کیا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کی آرزوئیں پوری ہوں گی حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰى ٞۖ۰۰ فَلِلّٰهِ الۡاٰخِرَةُ وَالۡاُوۡلٰى﴾ ’’کیا انسان جس چیز کی آرزو کرتا ہے۔ وہ اسے ضرور ملتی ہے؟ آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ پس وہ جس کو چاہتا عطا کرتا اور جس کو چاہتا ہے محروم کر دیتا ہے۔ لہذا امر الٰہی ان کی آرزوؤ ں کے تابع ہے نہ ان کی خواہشات کے موافق۔