اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، تاکہ وہ سزا دے ان لوگوں کو جنھوں نے برائیاں کیں بہ سبب اس کےجو انھوں نے عمل کیے، اور جزا دے ان لوگوں کو جنھوں نے اچھائیاں کیں بدلے اچھائی کے (31) وہ لوگ جو بچتے ہیں کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے سوائے صغیرہ گناہوں کے ،بلاشبہ آپ کا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے، وہ خوب جانتا ہے تمھیں جب اس نے پیدا کیا تمھیں زمین (مٹی) سے، اور جب تم بچے تھے پیٹوں میں اپنی ماؤ ں کے، سو نہ پاکیزگی بیان کرو تم اپنے آپ کی وہ خوب جانتا ہے اس کو جس نے پرہیز گاری اختیار کی (32)
[31]اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اقتدار کا مالک ہے، دنیا و آخرت اسی اکیلے کی ملکیت ہے، دنیا و آخرت میں جو کچھ ہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہ ان میں اس طرح تصرف کرتا ہے جیسے عظیم بادشاہ اپنے غلاموں میں تصرف کرتا ہے، وہ ان پر اپنی قضا و قدر نافذ کرتا ہے، ان پر شرعی احکام جاری کرتا ہے، انھیں حکم دیتا ہے، انھیں منع کرتا ہے، اپنے اوامر و نواہی پر انھیں جزا و سزا دیتا ہے، پس اطاعت گزار کو ثواب عطا کرتا ہے اور نافرمان کو عذاب دیتا ہے۔﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا﴾ تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے کفر اور اس سے کم تر گناہوں اور ان اعمالِ شر کا ارتکاب کیا، جزا کے طور پر بدترین سزا دے ﴿ وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا﴾ اور ان کو جزا سے سرفراز فرمائے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مختلف فوائد پہنچا کر اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا ﴿ بِالۡحُسۡنٰى﴾ اچھائی کے ساتھ ان کو دنیا و آخرت میں، اچھی جزا سے سرفراز فرمائے۔ سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر جزا ان کے رب کی رضا، جنت اور اس کی نعمتوں سے فوز یابی ہے۔
[32] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان محسنین کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓىِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ﴾ ’’جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ ان واجبات پر عمل کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے جن کا ترک کرنا کبائر میں شمار ہوتا ہے، وہ بڑے بڑے محرمات کو ترک کرتے ہیں ، مثلاً: زنا، شراب نوشی، سود خوری، قتل ناحق اور دیگر بڑے بڑے گناہ۔ ﴿ اِلَّا اللَّمَمَ﴾ ’’الا یہ کہ کوئی صغیرہ گناہ (سرزد) ہو۔‘‘ اس سے مراد وہ چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جن پر بندہ مصر نہیں ہوتا یا بار بار ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کرتا، ان صغیرہ گناہوں کا مجرد ارتکاب بندے کو محسنین کے زمرے سے نہیں نکالتا۔ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ، واجبات پر عمل کرنے، اور محرمات کو چھوڑنے سے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے تحت داخل ہو جاتے ہیں، جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے ۔اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ ’’بے شک آپ کا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے۔‘‘ پس اگر اللہ تعالیٰ کی مغفرت نہ ہوتی تو تمام روئے زمین اور بندے تباہ ہو جاتے، اگر اس کا عفو و حلم نہ ہوتا توآسمان زمین پر آگرتا اور روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔ بنابریں نبی ٔاکرم ﷺ نے فرمایا: ’’پانچوں نمازیں، جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک، ان کے درمیان ہونے والے تمام (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہیں، اگر کبائر سے اجتناب کیا جائے۔‘‘ (صحیح مسلم، الطہارۃ، باب الصلوات الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ ......، حدیث: 233)﴿ هُوَ اَعۡلَمُ بِكُمۡ اِذۡ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَاِذۡ اَنۡتُمۡ اَجِنَّةٌ فِيۡ بُطُوۡنِ اُمَّهٰتِكُمۡ﴾ ’’وہ تمھیں (اس وقت سے) بخوبی جانتا ہے جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمھارے احوال، تمھاری جبلتوں کو جو اس نے پیدا کی ہیں، خوب جانتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو حکم دیا ہے ان میں سے بہت سے احکام کی تعمیل میں تمھاری کمزوری اور سستی کو، محرمات کے ارتکاب پر آمادہ کرنے والے دواعی کی کثرت کو، ان محرمات کی طرف راغب کرنے والے جذبات کو، اور محرمات کے ارتکاب کی راہ میں حائل ہونے والے موانع کے عدم وجود کو زیادہ جانتا ہے۔تمھارے اندر کمزوری موجود ہے جس کا مشاہدہ اس وقت ہوا جب اللہ تعالیٰ نے تمھیں جس زمین سے نکالا اور جب تم اپنی ماؤ ں کے پیٹوں میں تھے اور یہ کمزوری تمھارے اندر ہمیشہ موجود رہی۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک چیز کا حکم دیا اگرچہ اس کی تعمیل کے لیے اس نے تمھارے اندر قوت رکھی مگر پھر بھی کمزوری تمھارے اندر موجود رہی۔پس اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ان احوال کا علم رکھتا ہے، حکمت الٰہی اور جُودِ ربّانی کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنی رحمت و مغفرت، اپنے عفو و درگزر اور اپنے احسان سے ڈھانپ لے اور تم سے تمام جرائم اور گناہوں کو دور کر دے۔ خاص طور پر جبکہ ہر وقت بندے کا مقصد اپنے رب کی رضا کا حصول، ہر آن ایسے اعمال میں کوشش جو اس کے قریب کرتے ہیں اور ایسے گناہوں سے فرار جو اس کے آقا کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ، پھر اس سے لغزش صادر ہوجائے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا کریم اور سب سے بڑا جواد ہے وہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔پس اس قسم کے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کی مغفرت کے قریب رہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام احوال میں اس کی دعائیں قبول کرے۔ بنابریں فرمایا :﴿ فَلَا تُزَؔكُّـوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ ’’لہٰذا تم اپنے آپ کی پاکیزگی بیان نہ کرو۔‘‘ یعنی مدح کے حصول کی خواہش کی بنا پر لوگوں کو اپنے نفس کی طہارت کی خبر نہ دیتے پھرو ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى﴾ ’’وہ اسے (بھی) خوب جانتا ہے جس نے تقویٰ اختیا رکیا۔‘‘ تقویٰ کا مقام دل ہے، اللہ تعالیٰ اس سے مطلع ہے ۔دل کے اندر جو نیکی، بدی یا تقویٰ موجود ہے، اللہ تعالیٰ اس کی جزا دے گا، رہے لوگ تو وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمھارے کام نہیں آ سکتے۔