بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے آخرت پر، البتہ وہ نام رکھتے ہیں فرشتوں کے نام زنانے (27) حالانکہ نہیں ہے ان کو اس کا کوئی علم، نہیں پیروی کرتے وہ مگر گمان کی، اور بلاشبہ گمان نہیں فائدہ دیتا حق کے مقابلے میں کچھ بھی (28) پس آپ اعراض کریں اس سے جو رو گردانی کرے ہمارے ذکر سے، اور نہیں ارادہ کیا اس نے مگر صرف حیاتِ دنیا کا(29) یہی انتہا ہے ان کی علم (کے لحاظ) سے بلاشبہ آپ کا رب، وہی خوب جانتا ہے اس شخص کو جو گمراہ ہوا اس کے راستے سے اور وہی خوب جانتا ہے اس شخص کو جس نے ہدایت پائی (30)
[27] اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے، انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والے جو اللہ تعالیٰ پر عدم ایمان کے سبب سے آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایسے اقوال و افعال کی جسارت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دشمنی پر مبنی ہیں، مثلاً: وہ کہتے ہیں ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کو ولادت سے منزہ قرار دیا نہ انھوں نے فرشتوں کا اکرام کیا اور نہ انھوں نے ان کو مؤنث سے بالاتر سمجھا، حالانکہ انھیں اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم حاصل ہے نہ اس کے رسول کی طرف سے اور نہ عقل اور فطرت ہی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ بلکہ علم تو ان کے قول کے تناقض پر دلالت کرتا ہے۔ نیز اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد اور بیوی سے منزہ ہے۔ کیونکہ وہ اکیلا اور یکتا، متفرد اور بے نیاز ہے۔ اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ وہ جنم دیا گیا ہے اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہی ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے مقرب اور مکرم بندے ہیں جو اس کی خدمت پر قائم ہیں ﴿ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ﴾(التحریم: 66؍6) ’’اللہ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔‘‘
[28] مشرکین اس بارے میں بدترین قول کی پیروی کر رہے ہیں اور وہ ہے محض ظن و گمان جو حق کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ حق کے لیے ایسے یقین کا وجود ضروری ہے جو نہایت روشن دلائل و براہین سے مستفاد ہو۔
[29] چونکہ ان مشرکین کی عادت یہ ہے کہ انھیں اتباعِ حق سے کوئی غرض نہیں، ان کی غرض و غایت اور ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی کرنا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ اس شخص سے منہ موڑ لیں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، جو کہ حکمت سے لبریز ہے، اور قرآن عظیم سے اعراض کرتا ہے، پس اس نے گویا علوم نافعہ سے منہ موڑا۔ وہ دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ پس یہ اس کے ارادے کی انتہا ہے۔یہ چیز معلوم اور متحقق ہے کہ بندہ صرف اسی چیز کے لیے عمل کرتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتا ہے۔ پس ان لوگوں کی کوشش اور دوڑ دھوپ، دنیا اور اس کی لذات و شہوات تک محدود ہے۔ یہ لذات و شہوات جیسے بھی حاصل ہوتی ہے یہ انھیں حاصل کرتے ہیں اور جس کے راستے سے بھی ان کا حصول آسان ہو یہ اس کی طرف لپکتے ہیں۔
[30]﴿ ذٰلِكَ مَبۡلَغُهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ﴾ یہ ان کے علم کی غایت اور انتہا ہے۔ رہے آخرت پر ایمان رکھنے اور اس کی تصدیق کرنے والے عقل مند اور خرد مند لوگ تو ان کی ہمت اور ارادہ آخرت پر مرتکز رہتاہے۔ ان کے علوم سب سے افضل اور سب سے جلیل القدر علوم ہیں، یہ علوم کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ سے ماخوذ ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کون ہدایت کا مستحق ہے، پس وہ اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور کون ہدایت کا مستحق نہیں ہے، اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے اور اس سے الگ ہو جاتا ہے، پس وہ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ١ۙ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ ’’بے شک آپ کا رب اس شخص کو خوب جانتا ہے جواس کے راستے سے بھٹک گیا، اور وہی اس شخص سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا۔‘‘ پس وہ اپنے فضل و کرم کو اس محل و مقام پر رکھتا ہے جو اس کے لائق ہے۔