اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)