رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘
[2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔
[3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔
[5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔
[6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔
[7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔
[9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔
[10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو،
پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔
[12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔
[13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔