اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے۔ ہر روز(وقت) وہ ایک (نئی) شان میں ہے(29) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (30)
[29، 30] یعنی اللہ تعالیٰ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ وہ بے پایاں جود و کرم کا مالک ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے، وہ اس سے اپنی تمام حوائج کے متعلق اپنے حال وقال کے ذریعے سے سوال کرتے ہیں۔ وہ لمحہ بھر بلکہ اس سے بھی کم وقت کے لیے اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ﴿ كُلَّ يَوۡمٍ هُوَ فِيۡ شَاۡنٍ﴾ ’’ہر روز (ہر وقت) ایک (نئی) شان میں ہوتا ہے۔‘‘ یعنی وہ محتاج کو غنی کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، کسی قوم کو عطا کرتا ہے، کسی کو محروم کرتا ہے، وہ موت دیتا اور زندگی عطا کرتا ہے، وہی کسی کو جھکاتا اور کسی کو بلند کرتا ہے۔ کوئی کام اسے کسی دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا، مسائل اسے کسی غلطی میں مبتلا نہیں کر سکتے، مانگنے والوں کا اصرار کے ساتھ مانگنا اور سوال کرنے والوں کا لمبا چوڑا سوال اسے زچ نہیں کر سکتا۔پاک ہے وہ ذات جو فضل و کرم کی مالک اور بے حد و حساب عطا کرنے والی ہے جس کی نوازشیں زمین اور آسمان والوں، سب کے لیے عام ہیں۔ اس کا لطف و کرم ہر آن اور ہر لحظہ تمام مخلوق پر سایہ فگن ہے۔ نہایت بلند ہے وہ ہستی جس کو گناہ گاروں کا گناہ اور اس سے اور اس کے کرم سے ناواقف فقراء کا استغنا عطا کرنے سے روک نہیں سکتا۔ یہ تمام معاملات جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ہر روز کام میں ہوتا ہے، وہ تقادیر اور تدابیر ہیں جن کو اس نے ازل میں مقدر کر دیا تھا، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کوان اوقات میں جن کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے، نافذ کرتا رہتا ہے، یہ اس کے احکام دینی ہیں جو اوامر و نواہی پر مشتمل ہیں اور یہ اس کے احکام کونی و قدری ہیں جن کو وہ اپنے بندوں پر اس وقت تک جاری کرتا رہے گا جب تک کہ ان کا قیام اس دنیا میں ہے۔جب یہ مخلوقات تمام ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ سب کو فنا کر دے گا اور وہ چاہے گا کہ ان پر اپنے احکام جزائی نافذ کرے، انھیں اپنے عدل و فضل اور بے پایاں احسانات کا مشاہدہ کرائے جن کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں، اس کی توحید بیان کرتے ہیں، وہ مکلفین کو امتحان و ابتلا کے گھر سے ہمیشہ کی زندگی والے گھر میں منتقل کرے گا، تب وہ ان احکام کو نافذ کرنے کے لیے فارغ ہو گا جن کی تنفیذ کا وقت آ پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا درج ذیل ارشاد اسی بات پر دلالت کرتا ہے: