Tafsir As-Saadi
55:46 - 55:78

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78)

[46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔
[48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔
[50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔
[52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔
[54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔
[59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔
[60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔
[65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔
[71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔
[72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔
[77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔
[78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔