Tafsir As-Saadi
56:1 - 56:26

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔
[6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔
[9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔
[12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔
[15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔
[17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔
[20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔
[21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔
[24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔
[25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔
[26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔