بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جنھوں نے قرض دیا اللہ کو قرض حسنہ تو وہ بڑھایا جائے گا واسطے ان کے اور ان کے لیے ہے اجر عمدہ (18) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے، یہی لوگ ہیں راست باز، اور گواہی دینے والے نزدیک اپنے رب کے، ان کے لیے اجر ہے ان کا اور نور ہے ان کا اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو یہی ہیں جہنمی(19)
[18]﴿ اِنَّ الۡمُصَّؔدِّقِيۡنَ وَالۡمُصَّدِّقٰتِ﴾ یعنی وہ مرداور عورتیں جو نہایت کثرت سے صدقہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ﴿وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾’’او راللہ کو اچھا قرض دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے راستوں میں اپنا مال پیش کرتے ہیں جو ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ذخیرہ بن جاتا ہے۔ ﴿ يُّضٰعَفُ لَهُمۡ﴾ ’’ان کو دو چند اجر دیا جائے گا۔‘‘ ایک نیکی کا اجر و ثواب دس سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے ﴿ وَلَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَرِيۡمٌ﴾’ ’اور ان کے لیے اجر کریم ہے۔‘‘ یہ وہ اجر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں تیار کر رکھا ہے جسے نفس نہیں جانتے۔
[19]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖۤ﴾ ’’اور وہ لوگ جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ اہل سنت کے نزدیک ایمان جس پر قرآن و سنت دلالت کرتے ہیں وہ ہے قلب و لسان کا قول اور قلب و لسان اور جوارح کا عمل، تب یہ چیز دین کے تمام ظاہری و باطنی شرائع کو شامل ہے۔ پس جنھوں نے ان تمام امور کو جمع کر لیا وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ عام مومنوں سے اوپر اور انبیاء سے نیچے ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ وَالشُّهَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ١ؕ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ وَنُوۡرُهُمۡ﴾ ’’اور شہید ہیں ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ان کا اجر ہوگا اور ان کی روشنی۔‘‘ کا معنی وہی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے ’’جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ، حدیث: 2790)اور یہ چیز ان کے انتہائی بلند مرتبہ، ان کی رفعت اور اللہ تعالیٰ سے ان کے قرب کا تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ جہنمی ہیں۔‘‘ ان آیات کریمہ نے مخلوق کی تمام اصناف، یعنی صدقہ کرنے والوں، صدیقین، شہداء اور اہل جہنم کے تذکرے کو یکجا کر دیا ہے۔پس صدقہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا بڑا حصہ مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور ممکن حد تک ان کو فائدہ پہنچانے خاص طور پر ان کو اللہ کے راستے میں مال کے ذریعے سے فائدہ پہنچانے پر مشتمل ہے۔ صدیق وہ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان، عمل صالح، علم نافع اور یقین صادق کے مراتب کو مکمل کر لیا۔ شہید وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو غالب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، اپنے جان و مال کو خرچ کیا اور قتل ہو گئے۔ اہل جہنم وہ کفار ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا۔ مذکور بالا اقسام کے علاوہ ایک قسم باقی رہ گئی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاطر میں کیا ہے اور وہ ہیں مقتصدین جنھوں نے واجبات کو ادا کیا، محرمات کو ترک کیا ، البتہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ان سے تقصیر واقع ہوئی۔ اگرچہ ان میں سے بعض کو ان کے بعض افعال کے سبب سے سزا ملے گی، تاہم مآل کار وہ جنت میں جائیں گے۔