Tafsir As-Saadi
57:25 - 57:27

البتہ تحقیق بھیجے ہم نے اپنے رسول ساتھ واضح دلیلوں کے، اور نازل کی ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ قائم رہیں لوگ انصاف پر، اور نازل کیا ہم نے لوہا اس میں لڑائی ہے بہت سخت اور فائدے ہیں لوگوں کے لیے اور تاکہ جان لے اللہ اس کو جو مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے بلاشبہ اللہ قوی ہے، بڑا زبردست (25) اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اور ابراہیم کو، اور رکھی ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب، پس کچھ ان میں سے ہدایت پانے والے ہیں اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (26) پھر لگاتار پیچھے بھیجا ہم نے اوپر ان کے نقش قدم کے اپنے رسولوں کو، اور پیچھے بھیجا ہم نے عیسٰی ابن مریم کو اور دی ہم نے اس کو انجیل، اور رکھ دی ہم نے دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے پیروی کی اس کی، شفقت اور مہربانی اور رہبانیت کو انھوں نے خود ایجاد کیا تھا اسے نہیں لکھا تھا ہم نے اسے ان پر سوائے تلاش کرنے رضائے الٰہی کے پس نہ رعایت کی انھوں نے اس کی جیسا حق تھا اس کی رعایت کا، پھر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان میں سے اجر ان کا اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (27)

[25] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ ’’یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا۔‘‘اس سے مراد وہ دلائل، شواہد اور علامات ہیں جو اس چیز کی صداقت اور حقیقت پر دلالت کرتی ہیں جسے انبیاء کرام لے کر آئے ہیں ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر کتاب اتاری۔‘‘ (الکتاب) اسم جنس ہے جو ان تمام کتابوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور ان امور کی طرف راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے جو ان کے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ ﴿ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اورمیزان‘‘ اور وہ اقوال و افعال میں عدل کا نام ہے۔ وہ دین جو رسول اللہﷺ لے کر آئے وہ اوامرونواہی او رمخلوق کے تمام معاملات، تمام جرائم، حدود، قصاص اور وراثت کے معاملات وغیرہ میں، سراسر عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ اور یہ اس لیے ﴿لِيَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ﴾ تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کر کے اور اپنے مصالح کے حصول کی خاطر جن کو شمار کرنا ممکن نہیں، عدل و انصاف پر قائم رہیں۔یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام انبیاء و رسل، شریعت کے قاعدہ پر متفق ہیں اور وہ ہے عدل کو قائم کرنا اگرچہ زمان و احوال کے مطابق عدل کی صورتیں مختلف ہیں۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا الۡحَدِيۡدَ فِيۡهِ بَاۡسٌ شَدِيۡدٌ﴾ ’’او رہم نے لوہا پیدا کیا، اس میں سخت ہیبت و قوت ہے۔‘‘ یعنی آلات حرب، مثلاً: ہر قسم کا اسلحہ اور ذرہ بکتر وغیرہ۔ ﴿وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾ ’’اور لوگوں کے لیے منافع ہے۔‘‘ یہ وہ منافع ہیں جن کا مشاہدہ مختلف انواع کی صنعت و حرفت، مختلف اقسام کے برتنوں اور زرعی آلات میں کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ کم ہی کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہو گی جو لوہے کی محتاج نہ ہو ﴿ وَلِيَعۡلَمَ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ وَرُسُلَهٗ بِالۡغَيۡبِ﴾ ’’تاکہ اللہ اسے جان لے جو بن دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہا اس لیے نازل فرمایا ہےکہ وہ اس کے ذریعے سے آزمائش کا بازار گرم کرے تاکہ واضح ہو جائے کہ کون اس حالت غیب میں اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں جس میں وہ ایمان فائدہ دیتا ہے جو مشاہدہ سے قبل ہو، مشاہدہ کے اندر ایمان کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ تب تو ایمان ضروری اور اضطراری ہو گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيۡزٌ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ قوی اور زبردست ہے۔‘‘ یعنی اسے کوئی عاجز کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگنے والا اس سے بچ کر کہیں جا سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت اور غلبے کا نشان ہے کہ اس نے لوہا نازل کیا جس سے بڑے بڑے طاقتور آلات بنتے ہیں۔ یہ اس کی طاقت اور غلبہ ہی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی قدرت رکھتا ہے مگر وہ اپنے دشمنوں کے ذریعے سے اپنے اولیاء کو آزماتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ کون بن دیکھے اس کی مدد کرتا ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہے کو اکٹھا بیان کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کے ذریعے سے اپنے دین کو نصرت عطا کرتا ہے اور اپنے کلمے کوکتاب کے ذریعے سے اور سیفِ ناصر کے ذریعے سے، اللہ کے حکم کے ساتھ بلند کرتا ہے۔ دونوں عدل و انصاف قائم کرتی ہیں جس کے ذریعے سے باری تعالیٰ کی حکمت، اس کے کمال اور اس کی شریعت کے کمال پر استدلال کیا جاتا ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا۔
[26] جب اللہ تعالیٰ نے جملہ انبیائے کرام کی نبوت کا عمومی ذکر فرمایا تو ان میں سے دو خاص نبیوں، یعنی حضرت نوح اور ابراہیمi کا ذکر بھی فرمایا جن کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب کو جاری کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّاِبۡرٰهِيۡمَ وَجَعَلۡنَا فِيۡ ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ﴾ ’’بے شک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب جاری رکھی۔‘‘ یعنی تمام انبیائے متقدمین و متاخرین حضرت نوح اور ابراہیم iکی اولاد میں سے ہیں۔ اسی طرح تمام کتابیں انھی دو انبیائے کرام کی اولاد پر نازل ہوئیں ﴿ فَمِنۡهُمۡ﴾ یعنی ان لوگوں میں سے جن کی طرف ہم نے رسول مبعوث کیے ، بعض لوگ﴿ مُّهۡتَدٍ﴾ ان انبیاء کی دعوت کے ذریعے سے ہدایت یافتہ، ان کے احکام کی اطاعت کرنے والے اور ان کی ہدایت سے راہ نمائی حاصل کرنے والے ہوئے۔ ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے خارج ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(یوسف: 12؍103)’’اور اکثر لوگ، خواہ آپ کتنی ہی خواہش کریں ایمان لانے والے نہیں۔‘‘
[27]﴿ ثُمَّ قَفَّيۡنَا﴾ پھر ہم نے بھیجے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمۡ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’ ان کے پیچھے لگاتار اپنے رسول اور ہم نے ان سب کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ uکا خاص طور پر اس لیے ذکرکیا ہے کیونکہ سیاق آیات نصاریٰ کے بارے میں ہے جو حضرت عیسیٰ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل دی۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی فضیلت والی کتابوں میں سے ہے ﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ رَاۡفَةً وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور ڈال دی ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور مہربانی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا١ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(المائدہ: 5/82) ’’آپ پائیں گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور مودت و محبت کے اعتبار سے آپ مومنوں کے سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور راہب بھی اور (اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ) وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ اسی لیے جب نصرانی عیسیٰu کی شریعت پر قائم تھے تو دوسروں کی نسبت زیادہ نرم دل تھے۔ ﴿وَرَهۡبَانِيَّةَنِ ابۡتَدَعُوۡهَا﴾ رہبانیت سے مراد عبادت ہے۔ پس انھوں نے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کر لی اور اپنے لیے اسے وظیفہ بنا لیا اور انھوں نے مختلف لوازم کا التزام کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے خود اپنی طرف سے اپنے آپ پر لازم ٹھہرایا تھا اس سے ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا تھا۔ مگر بایں ہمہ ﴿فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ یعنی وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور نہ اس کے حقوق ہی کو ادا کر سکے۔پس وہ دو اعتبار سے قصور کے مرتکب ہوئے۔اول: اس عبادت کو ایجاد کرنے کے اعتبار سے۔ثانی : اس اعتبار سے کہ انھوں نے اپنے آپ پر جس چیز کو فرض کیا تھا اس پر قائم نہ رہ سکے۔ اور یہ حال ان کے غالب احوال میں سے تھا۔ اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر استقامت کے ساتھ قائم تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاٰتَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡهُمۡ اَجۡرَهُمۡ﴾ یعنی وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ uپر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ محمد مصطفیﷺ پر بھی ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کے ایمان کے مطابق اجر عطا کیا ہے ﴿وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور ان میں سے زیادہ تر نافرمان ہیں۔‘‘