Tafsir As-Saadi
58:1 - 58:4

تحقیق سن لی اللہ نے بات اس عورت کی وہ جو تکرار کر رہی تھی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں اور وہ شکایت کر رہی تھی طرف اللہ کی جبکہ اللہ سن رہا تھا گفتگو تم دونوں کی بلاشبہ اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (1) وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں تم میں سے اپنی بیویوں سے نہیں ہو جاتیں وہ ان کی مائیں، نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہی جنھوں نے جنا ان کو اور بلاشبہ وہ البتہ کہتے ہیں نامعقول بات اور جھوٹ اور بے شک اللہ البتہ بہت معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے(2) اور وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں اپنی عورتوں سے ، پھر وہ رجوع کر لیں اس سے جو انھوں نے کہا تو آزاد کرنا ہے ایک گردن کا پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ (حکم)، نصیحت کیے جاتے ہو تم ساتھ اس کے، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(3) پس جو شخص نہ پائے تو روزے رکھنے ہیں دو مہینے متواتر پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پس جو شخص نہ استطاعت رکھے تو کھانا کھلانا ہے ساٹھ مسکینوں کو، یہ (حکم) اس لیے ہے کہ تم ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور یہ حدیں ہیں اللہ کی اور کافروں کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک(4)

[1] یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں، جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا، تو اس کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ ایک بوڑھا شخص تھا۔ اس خاتون نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا اور جرأت کے ساتھ اس کا اعادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِيۡ تُجَادِلُكَ فِيۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَؔكُمَا﴾ ’’(اے پیغمبر!) جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور اللہ سے شکایت کرتی تھی۔ اللہ نے اس کی التجا سن لی۔ اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات میں، مخلوق کی مختلف حاجتوں کے باوجود تمام آوازوں کو سننے والا ہے ﴿ بَصِيۡرٌ﴾ جو اندھیری رات میں، سیاہ پتھر پر رینگتی ہوئی سیاہ چیونٹی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل سمع و بصر کی خبر ہے، نیز تمام چھوٹے بڑے امور پر اس کے سمع و بصر کے احاطہ کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شکایت اور مصیبت کا ازالہ کرے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر اس عورت اور دیگر عورتوں کے بارے میں حکم بیان فرمایا، چنانچہ فرمایا:
[2]﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ﴾ ’’جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں، وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جَنا۔‘‘ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے کہے ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ‘‘ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے ’’تو مجھ پر حرام ہے‘‘ عربوں کے ہاں اس موقع پر پیٹھ (اَلظِّھر) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ’’ظِہَار‘‘ سے موسوم کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایسی بات کیوں کر کہتے ہیں جس کے بارے میں انھیں معلوم ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں، اور وہ اپنی بیویوں کو ان ماؤ ں سے تشبیہ دیتے ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ظہار کے معاملے کو بہت بڑا اور نہایت قبیح قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا﴾ یعنی وہ جھوٹی اور نہایت بری بات کہہ رہے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌؔ﴾ یعنی اس سے جو کچھ مخالفت صادر ہوئی ، پھر اس نے خالص توبہ کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے اور بخش دینے والا ہے۔
[3]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں، پھر انھوں نے جو کہا، اس سے رجوع کرلیں۔‘‘ رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکورہ کفارہ واجب ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو) چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ حقیقی جماع ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’ پھر وہ اپنی بات سے رجوع کرلیں۔‘‘ اور جو بات انھوں نے کہی وہ جماع (کو حرام کرنا) ہے۔ اور دونوں قولوں میں سے ہر ایک کے مطابق، جب بھی رجوع کیا جائے گا، تو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا کفارہ ہوگا۔ ﴿ فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ﴾ ’’تو ایک غلام آزاد کرنا ہے۔‘‘ لیکن وہ مومن ہو، جیسا کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے۔ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ غلام یا لونڈی ان عیوب سے سلامت ہو جو کام کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا﴾ ’’پہلے اس کے کہ وہ دونوں ہم بستری کریں۔‘‘ یعنی شوہر پر لازم ہے کہ جب تک کہ وہ غلام آزاد کر کے کفارہ ادا نہ کرے اپنی اس بیوی سے جماع نہ کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یعنی یہ حکم جو ہم نے تمھارے لیے بیان کیا ہے ﴿تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ﴾ ’’اس کے ذر یعے سے تم نصیحت کیے جاتے ہو۔‘‘ یعنی وہ تمھارے سامنے ترہیب سے مقرون اپنا حکم بیان کرتا ہے کیونکہ وعظ کا معنیٰ ترغیب و ترہیب کے ساتھ حکم کا ذکر کرنا ہے۔ پس جو شخص ظہار کا ارادہ کرتا ہے، جب اسے یاد آتا ہے کہ غلام آزاد کرنا پڑے گا، تو اس سے رک جاتا ہے ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تمھارے عملوں سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘ لہٰذا وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا و سزا دے گا۔
[4]﴿فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ﴾ پس جو آزاد کرنے کے لیے غلام نہ پائے یا اس کے پاس غلام کی قیمت موجود نہ ہو تو اس کے ذمے﴿ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ ﴾ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے ہیں۔ اور جو روزے رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾ ’’تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یا تو وہ اپنے شہر میں مروج خوراک میں سے انھیں کھانا کھلائے جو ان کے لیے کافی ہو، جیسا کہ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے۔ یا وہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دیگر جنس سے نصف صاع عطا کرے ، جیسا کہ مفسرین کے ایک دوسرے گروہ کی رائے ہے۔یہ حکم جو ہم نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے اور اسے واضح کیا ہے ﴿لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔‘‘ اور یہ ایمان اس کے حکم اور دیگر احکام کے التزام اور اس پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا التزام اور ان پر عمل کرنا ایمان ہے بلکہ یہ احکام اور ان پر عمل ہی درحقیقت مقصود و مطلوب ہیں ان سے ایمان میں اضافہ اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ نشوونما پاتا ہے۔ ﴿وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔‘‘ جو ان میں واقع ہونے سے روکتی ہیں، اس لیے واجب ہے کہ ان حدود سے تجاوز کیا جائے نہ ان سے قاصر پیچھے رہا جائے ﴿وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘
ان آیات کریمہ میں متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور عنایت ہے کہ اس نے مصیبت زدہ عورت کی شکایت کا ذکر کر کے، اس کی مصیبت کا ازالہ کیا، بلکہ اس نے اپنے حکم عام کے ذریعے سے ہر اس شخص کی مصیبت کا ازالہ کیا جو اس قسم کی مصیبت اور آزمائش میں مبتلا ہے۔(۲) ظہار، بیوی کو حرام ٹھہرا لینے کے ساتھ مختص ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اپنی عورتوں سے۔‘‘ اگر وہ اپنی لونڈی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہراتا ہے تو یہ ظہار شمار نہ ہو گا ، بلکہ یہ طیبات کی تحریم کی جنس سے ہے ، مثلاً: کھانے پینے کو حرام ٹھہرا لینا، اس میں صرف قسم کا کفارہ واجب ہے۔ (۳)کسی عورت سے نکاح کرنے سے پہلے، اس سے ظہار درست نہیں، کیونکہ ظہار کے وقت وہ اس کی بیویوں میں داخل نہیں ہے۔ جیسا کہ نکاح سے قبل اس کو طلاق نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ طلاق دے دے یا اس کو معلق کر دے۔(۴)ظہار حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے منکر کہا ہے ۔(۵) ان آیات کریمہ میں، اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ﴾’’وہ تمھاری مائیں نہیں ہیں۔‘‘(۶) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے محارم کے نام سے پکارے ، مثلاً:’’اے میری ماں!‘‘ ’’اے میری بہن!‘‘ وغیرہ کیونکہ یہ محرمات سے مشابہت رکھتا ہے۔(۷) کفارہ مجرد ظہار سے واجب نہیں ہوتا بلکہ سابقہ دونوں اقوال کے اختلاف معنیٰ کے مطابق، ظہار کرنے والے کے ’’رجوع کرنے‘‘ پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ (۸) کفارہ میں چھوٹے یابڑے غلام کو اور مرد یا عورت کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو جاتا ہے، کیونکہ آیت میں مطلق غلام کو آزاد کرنے کا حکم ہے۔ (۹)آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کفارے میں غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا ہے تو جماع سے قبل، کفارہ ادا کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقید ذکر کیا ہے، بخلاف مسکینوں کو کھانا کھلانے کے، کیونکہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے دوران میں جماع جائز ہے۔(۱۰)جماع سے قبل کفارے کے واجب ہونے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس سے کفارے کی ادائیگی میں زیادہ ترغیب ملتی ہے کیونکہ جب ظہار کرنے والے میں جماع کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کفارہ ادا کیے بغیر جماع ممکن نہیں، تو کفارہ ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔(۱۱) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے۔ ظہار کا ارتکاب کرنے والا اگر ساٹھ مسکینوں کا اکٹھا کھانا کسی ایک مسکین، یا ایک سے زائد مسکینوں کو، جو تعداد میں ساٹھ سے کم ہوں، دے دے، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾