Tafsir As-Saadi
56:75 - 56:87

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87)

[75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔
[77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔
[78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔
[79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔
[80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔
[81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔
[82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔
[85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔
[86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔