Tafsir As-Saadi
56:88 - 56:96

پس لیکن اگر ہے وہ (مُردہ) مقربین میں سے ہو (88) تو ہے (اس کے لیے) راحت اور خوشبو اور نعمتوں والا باغ(89) اور لیکن اگر ہے وہ اصحاب الیمین میں سے (90) تو (کہا جائے گا:) سلامتی ہے تیرے لیے، (تو) اصحاب الیمین میں سے ہے (91) اور لیکن اگر ہے وہ، تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے (92) تو مہمانی ہو گی (اس کی) گرم کھولتے پانی سے (93) اور داخل کرنا ہے جہنم میں (94) بلاشبہ یہ (خبر) یہی یقینی حق ہے (95) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظیم ہے (96)

[88، 89] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوۡحٌ﴾ تب ان کے لیے راحت و اطمینان ، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَيۡحَانٌ﴾ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ’’ریحان‘‘ سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِيۡمٍ ﴾ ’’اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۰۰ نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ۰۰﴾( حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’(یونس:10/64) ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔‘‘ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔
[90، 91]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌ لَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔
[94-92]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ۰۰ وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف:18؍29) ’’تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔‘‘
[95]﴿ اِنَّ هٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔
[96] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’لہٰذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔‘‘ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلند و برتران باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں)کرتے ہیں۔