Tafsir As-Saadi
57:1 - 57:6

تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
[3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔
[4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔
[5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔
[6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔